گوادر انڈسٹریل زون میں صنعت وتجارت سے وابستہ افراد کو نظرانداز کئے جانے پر تشویش کااظہار صدر حاجی جمعہ خان بادیزئی
- Advertisement -
ایوان صنعت وتجارت کوئٹہ بلوچستان کے صدر حاجی جمعہ خان بادیزئی ،سینئر نائب صدر صلاح الدین خلجی ،نائب صدر محمدیاسین رئیسانی نے اپنے جاری کردہ بیان میں گوادر انڈسٹریل زون میں صنعت وتجارت سے وابستہ افراد کو نظرانداز کئے جانے پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ سی پیک جیسے گیم چینجر منصوبے کی کامیابی صنعت وتجارت سے وابستہ مقامی افراد کی شراکت داری کے ذریعے ہی ممکن ہے انہوں نے کہاکہ بدقسمتی سے انڈسٹریل زونز میں صوبے کی صنعت وتجارت سےوابستہ افراد کو نظرانداز کیاجارہاہے بلکہ سی پیک سے متعلق مقامی صنعت کاروں اور تاجروں کی رائے کو بھی وہ اہمیت نہیں دی جارہی جو اسے دیناچاہیے انہوں نے کہاکہ اعلانات کی حد تک تو صوبے کی صنعت وتجارت سے وابستہ افراد کو گوادر و دیگر اکنامک زونز میں اولین ترجیح قرار دیا جا رہا ہے بلکہ انہیں ہر اؤل دستے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے مگر اصل صورتحال اس کے بالکل برعکس ہے ہمیں نہ صرف گوادر اکنامک زون میں نظر انداز کیا جا رہا ہےبلکہ وہاں منظور نظر اور غیر مقامی افراد کو الاٹمنٹ کر کے نوازا جا رہا ہے جسے ہم بندر بانٹ سے تعبیر کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے عہدیداران و ممبران کی جانب سےگوادر انڈسٹریل زون سے متعلق متعدد بار دی گئی تجاویز پر کوئی دھیان نہیں دیا جا رہا ہمیں گوادر اکنامک زون میں مقامی صنعتکاروں کو نظر انداز کرنے کی پالیسی قابل قبول ہے نا ہی وہاں منظور نظر افراد کو نوازنے اور پلاٹوں کی بندر کا سلسلہ مزید برداشت کیا جا سکتا ہے جب تک حقیقی مقامی صنعتکاروں کو اسپشل اکنامک زونز میں الاٹمنٹ کر کے شراکت داری نہیں دی جاتی اس وقت تک صوبے میں صنعت و تجارت کے شعبے زبوں حالی کا شکار رہیں گے بلکہ احساس محرومی ختم ہونے کی بجائے مزید بڑھے گی ، انہوں نے کہا کہ مقامی صنعتکاروں اور تاجروں کو بوستان اکنامک زون میں بھی الاٹمنٹ نہیں کی جا رہی اگرچہ اس سلسلے میں چیمبرآف کامرس کے عہدیداران وممبران کی جانب سے بوستان اسپشل اکنامک زون میں پلاٹ الاٹ کرنے کیلئے متعدد بار درخواست دئیے گئے ہیں بلکہ اس سلسلے میں ہر فورم پر بھی خدشات اور تحفظات کااظہار کیاجاتارہاہے لیکن اس کے باوجود بھی وہ نظرانداز ہے ،مذکورہ منصوبے پر بھی جنگی بنیادوں پر کام کر کے مقامی صنعتکاروں کو ترجیح دینے کی ضرورت ہے مگر افسوس ایسا نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک جیسا معاشی گیم چینجر منصوبہ اس وقت کارگر ثابت ہوگا جب مقامی صنعت کاروں وتاجروں کی شراکت داری کو ممکن بنانے کیلئے اقدامات کئے جائیںگے انہوں نے کہاکہ تمام تر مخدوش صورتحال کے باوجود بھی صوبے کے صنعت کاروں اور تاجروں کی جانب سے یہاں کاروباری سرگرمیاں جاری ہیں بلکہ انہیں وسعت دینے کی بھی کوشش روز اول سے کی جارہی ہے امن وامان کی بحالی کے ساتھ تجارتی سرگرمیوں کو مزیدفروغ ملنا چاہیے اور یہ تب ممکن ہوگا جب سی پیک منصوبے کے تحت صوبے میں قائم کئے جانے والے انڈسٹریل زونز ودیگر میں مقامی صنعت کاروں اور تاجروں کی رائے کو مقدم رکھاجائے گا،انہوں نے کہاکہ حکومت کی تبدیلی کے بعد ہمیں امید ہے کہ اب نہ صرف صوبے کی صنعت وتجارت سے وابستہ افراد کی تحفظات اور خدشات کو دور کیاجائے گا بلکہ اس سلسلے میں اعلیٰ حکام فوری احکامات بھی دیںگے ،انہوں نے کہاکہ صوبے میں صنعت وتجارت سے وابستہ افراد لوگوں کی بہت بڑی تعداد کو روزگار فراہمی کا ذریعہ ہے بلکہ صنعت کار اور تاجر کسی بھی ملک ،صوبے اور علاقے کی معیشت میں بھی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ بوستان انڈسٹریل زون میں مقامی صنعت کاروں اور تاجروں کو اراضی کی الاٹمنٹ کی جائے بلکہ سی پیک کے سلسلے میں ان کی رائے کو بھی مقدم جاناجائے ۔