اب لوگ نقل مقانی نہیں کرینگے ،بھاشا ڈیم اور دیگر ڈیم ضرور بنیں گے، چیف جسٹس میاں ثاقب نثار

0

- Advertisement -

سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے قلت آب کے مسئلے پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطرے کی یہ تلوار ہمارے بچوں کے سروں پر لٹک رہی ہے اور یہ پورے پورے پاکستان کے لئے تھریٹ بن چکا ہے مگر اب نقل مکانی کی نوبت نہیں آئے گی کیونکہ ایک تحریک بن گئی ہے ،صحت ، تعلیم اور پانی کی طرح انصاف بھی بنیادی انسانی حق ہے جو ہم نے یقینی بنانا ہے،میرے جتنے بھی جج صاحبان ہیں وہ ناقابل تسخیر قلعے ہیں جنہیں آپ دلیل ، آئین اور قانون کے سوائ کسی چیز سے تسخیر نہیں کرسکتے ، مجھے اپنی عدلیہ پر فخر ہے۔ ان خیالات کااظہار انہوںنے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے کوئٹہ میں دیئے گئے عشایئے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر جناب جسٹس آصف سعید خان کھوسہ ،جسٹس گلزار احمد ،جسٹس مشیرعالم ،جسٹس مظہر عالم خان میاخیل،چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ محترمہ طاہرہ صفدر ، گورنر بلوچستان امان اللہ خان یاسین زئی ،جناب جسٹس جمال خان مندوخیل ، جناب جسٹس نعیم اختر ، جناب جسٹس ہاشم خان کاکڑ سمیت سینئروکلائ بھی موجود تھے۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کا اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ آئین میں بنیادی انسانی حقوق کی ضمانت دی گئی ہے آئین کے آرٹیکل 199، آرٹیکل 184کے تحت یہ ذمہ داری ہے کہ یہ حقوق دلائیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے جن معاملات میں ضرورت محسوس کی وہاں سوموٹو ایکشن لیا لیکن یقین دلاتا ہوں کہ اس میں نیت یہی تھی کہ لوگوں کے جو حقوق پامال ہورہے ہیں اس کا سلسلہ روک سکیں غریب کا کوئی حال نہیں استحصال بہت زیادہ ہوتا ہے صحت تعلیم پانی یہ وہ بنیادی چیزیں ہیں جس کے لئے بہت کام کرنے کی ضرورت ہے انہوںنے کہا کہ پانی کے لئے کام شروع کرنے کا فیصلہ کوئٹہ میں پانی سے متعلق صورتحال جاننے کے بعد کرلیا تھا اس سے پہلے کراچی میں بھی پانی کی صورتحال سے کچھ اندازہ ہوگیا تھا۔اب انشائ اللہ نقل مکانی نہیں کرنی پڑے گی کیونکہ تحریک بن گئی ہے بھاشا ڈیم اور دیگر ڈیم ضرور بنیں گے اس کے ساتھ ساتھ ہم نے ایک اہم کام یہ کیا کہ منرل واٹرانڈسٹری ایک پیسہ نہیں دے رہی تھی کم از کم ہم نے فی الوقت ایک روپیہ فی لیٹر ان پر ٹیکس لگالیا اور مختص کردیا کہ یہ ٹیکس پانی کے لئے ہوگا اور پانی ہی کی ڈویلپمنٹ کے لئے ہر صوبہ اس کو خرچ کرے گا یہ بڑی خوش آئند بات ہے کہ اس وقت یہ اقدامات کئے جارہے ہیںانہوں نے کہا کہ ابھی جب میں انگلینڈ گیا تھا وہاں میں نے پاکستان کے لئے لوگوں کی جو محبت دیکھی وہ ناقابل بیان ہے اوور سیز پاکستانیوں نے دل کھول کر عطیات دیئے اور 9اعشاریہ سات ملین پا?نڈ اکھٹے ہوئے جس کے حوالے سے وہاں کی پارلیمنٹ میں اپوزیشن کا سوال بھی آیا کہ اتنی بڑی رقم پاکستان کیسے جائے گی جس کا وہاں کی حکومت نے جواب دیا کہ یہ اوور سیز پاکستانیوں کا حق ہے کہ وہ چندہ اکھٹا کرکے اپنے ملک کے لئے دیں۔ انہوںنے کہا کہ پانی کا مسئلہ اہم ہے میں اسے واٹر بم کا نام دیتا ہوںیہ تلوار ہمارے سروں پر لٹک رہی ہے پاکستان کے لئے تھریٹ بن چکا ہے۔ انہوںنے کہا کہ جوڈیشری بار اور بار جوڈیشری کی طاقت ہے جہاں تک تعلق ہے ججز کا تو ہم لوگوں کو جلدانصاف مہیا کرنے کے لئے کام کررہے ہیںہمارے ہاں مقدمات بہت طویل ہوجاتے ہیں ہمیں انصاف جلد مہیا کرنا ہے انصاف بھی بنیادی انسانی حق ہے بار اور بینچ کو مل کرانصاف تک رسائی کے عمل کو تیز بناسکتے ہیں۔انہوںنے کہا کہ میرے جج صاحبان ہیں وہ ناقابل تسخیر قلعے ہیں یہ ایسے قلعے ہیں جن کو آپ دلیل آئین اور قانون کے علاوہ کسی چیز سے تسخیر نہیں کرسکتے۔ مجھے فخر ہے عدلیہ پر کہ اتنے قابل ججز سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ میں میسرہیں اور مجھے یہ بھی یقین ہے کہ اب بھی اور آئندہ بھی ہم اپنی جو سلیکشن کریں گے ہائیکورٹ میں وہ میرٹ پر ہوگی اور ہمارا جوڈیشل کمیشن بڑی ذمہ داری کے ساتھ اچھے لوگوں کا انتخاب کرے گا۔قبل ازیں اپنے خطاب میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر امان اللہ کنرانی نے چیف جسٹس اور دیگر جج صاحبان کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس نے ملک کے لئے جو خدمات سرانجام دی ہیں اور جو اصول سیٹ کئے اس نے معاشرے و پاکستان کے بائیس کروڑ عوام کی امیدوں کو جلا بخشی ہے سراٹھا کر چلنے کا وطیرہ پیدا کیا ہے یہ پاکستان کی تاریخ کا بہت بڑا سنگ میل ہے جس کا سہرا چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کے سرہے میںمبارکباد دیتا ہوں اور توقع رکھتا ہوں کہ آئین قانون کی بالادستی انسانی بنیادی حقوق کے نفاذ اور معاشرے سے دہشت گردی اور عدم برداشت کے خاتمے کے لئے وہ اپنا پورا کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ دیامر بھاشا ڈیم کے لئے جو اقدام چیف جسٹس نے کیا وہ قابل قدر ہے بنیادی انسانی حقوق کی بات کی جائے تو سب سے بڑی بات زندگی کی ہے سب سے بڑا انسانی حق انسانی زندگی کا بچا? ہے آج سے پانچ ہزار سال قبل مہرگڑھ پانی ہی کی وجہ سے سنسان ہوگیا موہن جوڈرو کو بھی پانی ہی کی وجہ سے انسانی المیے کا سامنا کرنا پڑا۔ بدقسمتی سے جو ہمارا نظام حکومت رہا ہے اس جانب توجہ نہیں دی گئی اگر توجہہ دی بھی گئی تو نیم دلی کے ساتھ جس کی وجہ سے مسائل نے جنم لیا انہوںنے کہا کہ ہم چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کے ججز کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہمارے ساتھ پوری قوم کھڑی ہے ہم آپ کی آوازہیںہم آپ کے ترجمان اور سپاہی ہیں آپ کے ہر کام اور فیصلے کو آئین وقانون کے تحت قدر کی نگاہ سے دیکھیں گے اور اس کی حفاظت ہم کریں گے ہم آپ کی آواز بنیں گے کسی ٹی وی اینکر کو ترجمانی کی ضرورت نہیں وکلائ ججزکے ترجمان ہیں ہم کسی کو ہمارے وجود اور ہمارے ادارے کی غلط ترجمانی کا حق نہیں دیں گے۔دریں اثناءچیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے سپریم کورٹ کوئٹہ رجسٹری کی نئی عمارت کاافتتاح کردیااس موقع پر ان کے ہمراہ سپریم کورٹ کے ججز جسٹس آصف سعید کھوسہ ،جسٹس گلزار احمد ،بلوچستان ہائی کورٹ کی چیف جسٹس محترمہ سیدہ طاہرہ صفدر ،جسٹس جمال خان مندوخیل ،جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ،جسٹس محمد نعیم اختر افغان ،جسٹس محمداعجاز سواتی ،جسٹس ظہیر الدین کاکڑ ،سابق چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ محمد نورمسکانزئی ،سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر امان اللہ کنرانی ایڈووکیٹ ،ججز اور سینئر وکلاءبھی موجود تھے ۔سپریم کورٹ کوئٹہ رجسٹری کی نئی عمارت کے افتتاح کے موقع پر چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کاکہناتھاکہ میں سب کو مبارکباد پیش کرتاہوں کہ جن کی کاوشوں سے سپریم کورٹ کوئٹہ رجسٹری کی نئی عمارت کی تعمیر کامنصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچا میری اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ عمارت کو عوام کو سستے اور فوری انصاف کی فراہمی کا ذریعہ بنائیں ،انہوں نے کہاکہ عمارتوں کی کوئی پہچان نہیں ہوتی بلکہ وہاں رہنے والی شخصیات ہی عمارتوں کے پہچان ہوتے ہیں ،انصاف کسی بھی معاشرے کیلئے انتہائی ضروری ہے اور انصاف ہی کی بنیاد پر معاشرے تشکیل پاتے ہیں،چیف جسٹس نے کہا کہ صرف عمارت کی تعمیر ضروری نہیں ، ہمارا مقصد معاشرے میں عدل و انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک ایسی عمارت ہوگی جہاں سائلین کو فوری انصاف مہیا کیا جائے گا۔ اس سے قبل معروف آرکیٹیکٹ نیئر علی دادا نے چیف جسٹس کو سپریم کورٹ کوئٹہ رجسٹری کی عمارت کی ڈیزائن اور تعمیراتی کاموں سے متعلق بریفنگ دی ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.