جوڈیشل انکوائیری ٹیم تشکیل دیاجائے اورملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لاکر سخت سزا دی جائے

0

- Advertisement -

مستونگ
سابق وزیراعلی بلچستان و رکن صوبائی اسمبلی چیف آف سراوان نواب محمداسلم خان رئیسانی کے زیرصدارت ڈپٹی کمشنرآفس مستونگ میں امن و امان سے متعلق ایک اعلی سطحی اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں ڈپٹی کمشنر مستونگ قائم لاشاری۔ڈسٹرکٹ پولیس آفیسرعنایت بگٹی۔سابق وفاقی وزیرمیرہمایون عزیزکرد۔ضلع مستونگ کے تمام محکموں کےاعلی آفیسران نے شرکت کی۔اجلاس میں تمام محکموں کے آفیسران نے درپیش عوامی مسائل کے حوالے سےتفصیلی بات چیت کی۔اجلاس سے خطاب کرتےہوئے چیف آف سراوان نواب محمداسلم خان رئیسانی نے کہاکہ الیکشن کے بعد مستونگ میں جو امن و امان کو خراب کرنے کی مزموم کوشش کی گئی چوری ڈکیتی نہیں بلکہ مستونگ میں ایک سوچھی سمجی سازش کے تحت دہشت گردی کی گئی۔ہم سب کو معلوم ہے کہ یہ کون اور کس کے ایماء پر کروایاگیا۔انھوں نے کہاکہ امن و امن کو خراب کرنے والے ملک و قوم کے ہرگز دوست نہیں بلکہ دہشت گرد اورعوام کے دشمن ہے۔ان عناصر کوبے نقاب کرنے کیلئے صوبائی حکومت اور گورنرکو لیٹرلکھاجائے گاکہ مستونگ میں ہونے والے سازش کو بےنقاب کرنے کیلئے جوڈیشل انکوائیری ٹیم تشکیل دیاجائے اورملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لاکر سخت سزا دی جائے۔امن دشمن عناصر چائے جوبھی ہو انکے خلاف سخت کاروائی ہونی چائیے امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنے والے کسی رعایت کے مسحق نہیں ہے انتظامیہ انکے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹے۔انھوں نے کہاکہ کسی کو مستونگ میں امن و امان خراب کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دینگے۔انھوں نے کہاکہ مستونگ میں جوکچھ ہواجس نے کروایا ان کے خلاف اسمبلی کے فلور پر بھی بھرپورآواز اٹھائوں گا۔انھوں نےآفیسران سے کہاکہ مستونگ میں یکساں طور پر تمام علاقوں کیلئے بہتر عوامی مفاد میں ترقیاتی اسکیمات کی رپورٹ بنائی جائے تاکہ عوام کودرپیش پانی صحت تعلیم سمیت دیگر مسائل کے حل کیلئے اقدامات اٹھائے جاسکے۔مستونگ میں پانی کی گرتی ہوصورتحال انتہائی تشویشناک شکل اختیارکرچکی ہے اگر اہم ضروری اقدامات نہیں اٹھائے گئے توکچھ عرصے کےبعدصورتحال مزید خطرناک شکل اختیار کریگی جو انتہائی پریشانی کا باعث بنیگی۔جس کے لئے محمکمہ پی ایچ ای۔محکمہ ایریگینشن اورایگریکلچرڈپارمنٹ اپنے رپورٹس جلد سے جلدمرتب کرےارسال کرے۔تاکہ علاقے کو آنے والے وقتوں میں پانی کی بحران سے نجات دلائی جاسکے۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنرمستونگ قائم لاشاری نے کہاکہ مستونگ میں امن و امان کی خرابی میں دیگر اضلاع سے آنے والے لوگوں کا بھی کافی ہاتھ ہیں۔اور ہم نے فوری طور گھرگھر سروے کرنے کاپروگرام شروع کیاہیکہ تاکہ باہرسے آنے والوں کی باقائیدہ رجسٹریشن کروایاجاسکےاور مکان ملکان کو تنبیہ کررہے ہیکہ وہ مکان کو کرایہ پر دینے کے بعد کرایہ دار کی مکمل کوائف انتظامیہ کو فراہم کرے۔۔انھوں نے کہاکہ مستونگ میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنےکیلئے آجی جی سے فورس مانگی تھی جس پر آئی جی نے ہمیں آر آر جی فورس کے 40 جوان فراہم کیئے جس سے شہر میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہورہی تھی کہ تین روز بعد ہی کمانڈنٹ بی سی نے بتائے بغیر فورس واپس بلالیا۔جس کی وجہ سے ہمیں دشواری کاسامناکرناپڑھ رہاہے۔ڈی سی نے مزید بتایاکہ مستونگ میں امن و امان برقرار رکھنے کیلئے امن کمیٹی بنائی جارہی ہےجس میں مستونگ کےمعتبرین سیاسی و سماجی شخصیات سمیت تمام محکموں کے آفیسران کو بھی شامل کیاجائے گا۔اور ہر پندرہ روز میں میٹنگ بلایاجائے گا تاکہ علاقے میں امن و امان میں خلل پیداکرنے والوں کی بیخ کنی کی جاسکے اور علاقہ بھی پر امن اور خوشحال ہو

Leave A Reply

Your email address will not be published.