- Advertisement -
بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل نے کہا ہے کہ چائینز قونصل خانے پر حملے میں ملوث افراد کا لاپتہ افراد سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی لاپتہ افراد کے لسٹ میں حملہ کرنے والوں کے نام ہے جب تک بلوچستان کے مسئلے کو سیاسی طور پر حل نہیں کیا جا تا اس وقت تک یہ مسئلہ حل نہیں ہو گا بلوچستان کے مسئلے کو سمجھنے کی ضرورت ہے اس مسئلے پر سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا گیا غیر سیاسی اور تشدد کے ذریعے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی لا پتہ افرادکاکیمپ ختم نہیں کیاگیاہے اورنہ ہی میں نے کسی سے کیمپ ختم کرنے کاکہاہے،آج بھی لواحقین بیٹھے ہوئے تھے ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایک نجی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے کیا سردار اختر جان مینگل نے کہا ہے کہ بلوچستان میں یہاں تصحیح کروں کہ لاپتہ افرادکاکیمپ ختم نہیں کیاگیااورنہ ہی میں نے کسی کوکیمپ ختم کرنے کاکہاہے۔میں جب کل اظہاریکجہتی کرنے وہاں گیاتوایسے حالات تھے ماں بہنوں کے آنسومجھ سے دیکھے نہیں گئے میں نے بوڑھی ماں کوکہاکہ سردی ہے تم لوگ چلے جا ﺅ مگر انہوں نے کہا ہے کہ میرے بیٹے کے بارے میں کچھ تو بتایا جائے حکمران کچھ بتانے سے بھی گریز کر تے ہیں سردار اختر جان مینگل نے کہا ہے کہ بلوچستان کے مسئلے کوآج تک کسی نے سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی نہ ہی کوئی ایسی حکومت آئی جس نے سنجیدگی سے بلوچستان کا مسئلہ حل کرنے کیلئے اقدامات کئے۔بلوچستان کا مسئلہ سیاسی ہے اس مسئلے کو سیاسی طریقے سے حل کیا جائے ۔سیاسی مسائل مل بیٹھ کر باتوں سے حل ہوتے ہیں لیکن یہاں بلوچستان کے مسئلے کو زبردستی اور تشدد کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی گئی ۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت سے کہا تھا کہ وزارت چاہتے ہیں نہ ہی حکومت کا حصہ بننے کے خواہش مند ہے ہمارا مطالبہ صرف اتنا ہے کہ بلوچستان کے مسائل حل کئے جائیں۔ وزیراعظم سے ملاقات میں بھی یہی مطالبہ دہرایا اور کہا کہ ایک سال تک انتظار کرینگے اگر مطالبات تسلیم اور بلوچستان کے مسائل حل نہ ہوئے تو پھر آئندہ کا لائحہ عمل طے کرینگے ۔انہوں نے کہا کہ چینی قونصل خانے پر حملے میں ہلاک ہونیوالا شخص لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل نہیں تھا اس بات کی تصدیق قومی اسمبلی میں پیش کی جانیوالی دستاویزات سے کی جاسکتی ہے ۔ سابق صوبائی وزیر داخلہ کی جانب سے ایک کمانڈر کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی تھی جو بعد میں زندہ نکلا انہوں نے جسٹس)ر(جاوید اقبال کے لا پتہ افرادکے حوالے سے بیان سے متعلق انہوں نے کہاکہ اگر گمشدہ افراد کا مسئلہ70فیصد حل ہوچکاہے تولا پتہ افرادکے کیمپ میں سینکڑوں کی تعداد میں لواحقین کیوں بیٹھے ہیں ۔ یہ کہا نہیں جاسکتا کہ ہماری یا کسی اور کی گمشدہ افراد کے حوالے سے فراہم کی گئی تفصیلات درست ہو۔انہوں نے کہا کہ اگر کوئی شخص بے گناہ ہے تو اسے رہا کیا جائے اور اگر کسی پر کوئی الزام یا کسی جرم میں ملوث ہے تو انھیں عدالتوں میں پیش کیا جائے تاکہ انکے لواحقین کو تسلی تو ہو ۔کیمپ کے دورے کے موقع پر بوڑھی ماں نے کہا کہ ہمیں بتایا جائے کہ ہمارے بچوں کی لاشیں کہا ہے انکی تدفین کہاں کی گئی ہے تاکہ بیٹھ کر ان کیلئے فاتحہ خوانی تو کرسکیں انہوں نے کہا ہے کہ ہر خان دہشت گرد نہیں ہے اور نہ ہی ہر رزاق کا نام دہشت گردوں میں ہے یہاں کوئی مسئلے کا حل نہیں کر نا چا ہتے ہیںجس کے وجہ سے مشکلات بڑھتی جا رہی ہے ۔