ملک سے کرپشن کے خاتمے کیلئے رویوں کی تبدیلی ناگزیر ہے، ڈائریکٹرجنرل قومی احتساب بیورو(نیب) بلوچستان عابد جاوید
- Advertisement -
ڈائریکٹرجنرل قومی احتساب بیورو(نیب) بلوچستان عابد جاوید نے کہاہے کہ ملک ،صوبے اور معاشرے سے کرپشن کے خاتمے کیلئے رویوں کی تبدیلی ناگزیر ہے ،حکومتی محدود وسائل کا عوام کی فلاح وبہبود کیلئے صحیح معنوں میں بروئے کارلانا وقت کی اہم ضرورت ہے ،بلوچستان میں غیر فعال ہاﺅسنگ اسکیموں کے ذریعے عوام سے رقوم بٹورے گئے ہیں ایسے عناصر کے خلاف کارروائی اور ہاﺅسنگ سوسائٹیز کے رولز اینڈ ریگولیشن کو بہتر بناناوقت کی اہم کی ضرورت ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیب بلوچستان کے زیراہتمام غیر قانونی رہائشی اسکیموں سے متعلق آگاہی کےلئے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سیمینار سے میئرکوئٹہ ڈاکٹرکلیم اللہ ،سیکرٹری زراعت و امداد باہمی بلوچستان علیق نظر کیانی ،ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بلوچستان الطاف حسین اور نے بھی خطاب کیابلکہ زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی کثیرتعداد سیمینار میں شریک ہوئی ۔سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹرجنرل نیب بلوچستان عابد جاوید کاکہناتھاکہ مقامی سطح پر ترقیاتی منصوبوں میں عوام کااشتراک انتہائی ضروری ہے،انہوں نے کہاکہ حکومت کے پاس محدود مالی وسائل ہیں جنہیں صحیح معنوں میں عوام کی فلاح وبہبود کیلئے بروئے کار لانے کی ضرورت ہے ، ہمیں حکومت پر تمام ترانحصار سے اجتناب کرنا ہوگا ،انہوں نے کرپشن کی روک تھام پر زور دیتے ہوئے کہاکہ اس کیلئے ہمیں رویوں میں تبدیلی لاناہوگی ،جزا ءو سزا کا عمل کرپشن کی روک تھام کے لئے اشد ضروری ہے ،انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں غیر فعال ہاوسنگ اسکیموں کے ذریعے لوگوں سے پیسے بٹورے گئے ہیں ایسے عناصر کے خلاف کارروائی ضروری ہے کرپشن کی نشاندہی ہر فرد کرتا ہے تاہم اس کا علاج کون کرے گا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہاﺅسنگ سوسائٹیزرولز اینڈ ریگولیشن بہتربنایاجائے ،انہوں نے کہاکہ ہم اچھی نیت سے کام کرنے والوں کی حوصلہ افزائی جبکہ دھوکہ دہی اورکرپشن کرنے والوں کا محاسبہ کریں گے ،انہوں نے کہاکہ سرکاری شعبوں میں تمام مسائل باہمی رابطہ کاری سے حل کئے جاسکتے ہیں بلوچستان میں پانی کی کی قلت کامسئلہ سنگین ہوتاجارہاہے جس کے خاتمے کیلئے مستقل حکمت عملی ضروری ہے انہوں نے کہاکہ چائنا ،بھارت اور پڑوسی ممالک میں کوآپریٹیو شعبے کامیاب ہیں تاہم ہمارے رویوں کے باعث یہاں یہ تجربات ناکامی سے دوچار ہیں ،اگر ای این ڈی رولز کو ٹھیک کردیا جائے تو جزا و سزا کے عمل سے بہت سے مسائل حل ہو سکتے ہیں آنے والی نسل کو بہتر سمت پر گامزن کرنے کے لئے مثبت روئیے ضروری ہیں پانی بجلی اور گیس کے معاملات حکومت اپنے ذمے لے تو ہاوسنگ سوسائٹیز بہتر طور پر چل سکتی ہیں ، کوآپریٹیو شعبے سے وابستہ اسٹیک ہولڈر کو اعتماد میں لیکر بہتر پالیسیاں تشکیل دی جائیں ۔اس موقع پر سیکرٹری زراعت و امداد باہمی بلوچستان علیق نظر کیانی ،ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بلوچستان الطاف حسین اوردیگر کاکہناتھاکہ ہاوسنگ اسکیموں کی رجسٹریشن 1925 ءکے ایکٹ کے تحت محکمہ زراعت و امداد باہمی کی ذمہ داری ہے ، ہاﺅسنگ سوسائٹی رجسٹریشن ایکٹ میں دور حاضر کے تقاضوں کے مطابق ترمیم کرکے شفافیت کے فروغ کے لئے تمام ریکارڈ ویب سائٹ پر لایا جائے تو بدعنوان کا تدارک ممکن ہے ، بلوچستان میں صرف کوئٹہ اور گوادر میں باقاعدہ ہاﺅسنگ سوسائٹیز قائم ہیں ،ایف آئی اے ، نیب اور صوبائی حکومت کے اشتراک سے ہونے والے فرانزک آڈٹ میں سنگین بدعنوانیاں سامنے آئی ہیں ۔