صوبے کے سب سے بڑے ہسپتال یعنی سول ہسپتال کوئٹہ میں انجیوگرافی کی فیس بھی پانچ ھزار روپئے مقرر ھے

0

    اہلیان بلوچستان کی وزیراعلی بلوچستان صوبائی وزیر صحت سے اپیل سول ہسپتال کوئٹہ اور بولان میڈیکل کمپلیکس جوکہ صوبے کے سب سے بڑے ہسپتال ہیں جہانپر بلوچستان بھر سے غریب لوگ اپنا اور اپنے پیاروں کا علاج کرانے آتے ہیں ظاہر سی بات ھے کہ ان سرکاری ہسپتالوں میں کوئی وزیر مشیر اور امیر تو علاج کی غرض سے نہی آتا یہانپر تو وہ لوگ علاج کرانے آتے ہیں جن کو تو دو وقت کی روٹی بھی پیٹ بھرنے کے لیئے میسر نہی ھوتی اور ان کی سوچ یہ ھوتی ھے کہ صوبے کے بڑے سرکاری ہسپتال میں جاکر اپنا یااپنے پیاروں کا علاج کرایا جائے شاید کچھ دن مزید جینے کے لیئے مل جائیں کیونکہ سرکاری ہسپتالوں میں علاج معالجہ کی مفت سہولت میسر ھوتی ھے مگر افسوس کہ ان کو یہاں آکر پتا چلتا ھے کہ صوبے کے ان بڑے ہسپتالوں میں بھی علاج پیسوں پر ھوتا ھے غرض یہ کہ ہر تھوڑی دیر کے بعد مریض کے ورثہ کو پرچی پکڑا دی جاتی ھے کہ یہ دوائی ہمارے پاس نہی باہر میڈیکل اسٹور سے لے آؤ اس کے علاوہ صوبے کے سب سے بڑے ہسپتال یعنی سول ہسپتال کوئٹہ میں انجیوگرافی کی فیس بھی پانچ ھزار روپئے مقرر ھے اور بی ایم سی میں بھی یہی صورتحال ھے کہ سی ٹی اسکین کرانے تک کے پیسے لیئے جاتے ہیں یہ ھے صوبے کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتالوں کی صورتحال اس تمام صورتحال کودیکھتے ھوئے وزیراعظم پاکستان اور وزیراعلی بلوچستان اور صوبائی وزیر صحت کو چاہیئے کہ وہ بلوچستان کے عوام کو اور کچھ نہی تو علاج معالجہ کی سہولیات تو مفت فراہم کریں تاکہ غریب عوم سسک سسک کر تو نہ مریں
    کوئٹہ (غلام جیلانی شاد )

Leave A Reply

Your email address will not be published.