:بنگلہ دیش میں مشتعل مظاہرین نےدارالحکومت ڈھاکہ میں واقع شیخ مجیب الرحمان کے گھر کو نذر آتش کرنے کے بعد منہدم کر دیا۔اس گھر کو ’دھان منڈی 32‘ کہا جاتا تھا۔بی بی سی کے مطابق شیخ مجیب کے گھر کو نذر آتش کرنے کے علاوہ مظاہرین نے سابق وزیر اعظم اور شیخ مجیب کی بیٹی شیخ حسینہ کی پارٹی عوامی لیگ کے رہنماؤں کے گھروں میں بھی توڑ پھوڑ کی ہے۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ شیخ حسینہ بھارت میں بیٹھ کر بنگلہ دیش مخالف سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ شیخ حسینہ واجد کو گذشتہ سال بنگلہ دیش میں طلبا کے پرتشدد مظاہروں کے بعد اقتدار چھوڑنے کے ساتھ ساتھ ملک بھی چھوڑ کر فرار ہونا پڑا تھا جس کے بعد وہ 5 اگست 2024 سے بھارت میں مقیم ہیں۔
شیخ حسینہ واجد نے اپنے والد اور بنگلہ دیش کے بانی کے گھر کو نذر آتش کئے جانے کے واقعے پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے مخالفین چند بلڈوزر زسے ملک کی آزادی کو تباہ کرنے کی طاقت نہیں رکھتے، وہ عمارت کو گِرا سکتے ہیں لیکن تاریخ کو مٹا نہیں سکتے۔
- Advertisement -
بنگلہ دیش میں حالیہ مظاہروں کی ابتدا ء بدھ کی شام اس وقت ہوئی جب شیخ حسینہ واجد کی پارٹی کی جانب سے بتایا گیا کہ وہ بدھ کو رات گئے خطاب کریں گی جسے فیس بک کے ذریعے دکھایا جائےگا۔ شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ کے طلبا ونگ چھاترا لیگ نے گزشتہ روز ایک آن لائن پروگرام کا اہتمام کیا جس میں شیخ حسینہ کو بھی آن لائن خطاب کی دعوت دی گئی۔
ان کا یہ خطاب فیس بک پیج کے ذریعے نشر کیاگیا تاہم اس کی خبر پھیلتے ہی شیخ حسینہ واجد اوران کی پارٹی کے مخالفین نے مظاہرے شروع کر د یئے اور پروگرام کے شروع ہونے سے قبل ہی مظاہرین نے بیلچوں اور ہتھوڑوں کی مدد سے بنگلہ دیش کے بانی شیخ مجیب کی رہائش گاہ دھان منڈی 32 پر حملہ کر دیا، مظاہرین کے پاس بلڈوزر بھی تھے۔ مقامی اخبار کے مطابق شیخ مجیب کے گھر کو رات ساڑھے9بجے آگ لگائی گئی جس کے چند گھنٹوں کے بعد ایک کرین کی مدد سے رات 2 بجے کے قریب عمارت کا ایک حصہ منہدم کر دیا گیا