موٹروے زیادتی کیس؛ ملزم وقارالحسن پولیس کے سامنے پیش

0

- Advertisement -

لاہور: موٹروے زیادتی کیس کا اہم ملزم وقار الحسن پولیس کے سامنے پیش ہوگیا۔

ایکسپریس نیوزکے مطابق موٹروے پر خاتون سے زیادتی کا مرکزی ملزم وقارالحسن خود سی آئی اے ماڈل ٹاؤن میں پیش ہو گیا، تاہم ملزم نے صحت جرم سے انکار کیا ہے اور اپنا ڈی این اے ٹیسٹ کروانے کی پیش کش بھی ہے۔

سی آئی اے پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم وقار کا تعلق شیخوپورہ سے ہے، اور اس نے بیان دیا ہے کہ میرا لاہور موٹروے زیادتی کے واقعے سے کوئی تعلق نہیں۔ پولیس چاہے تو میرا ڈی این اے ٹیسٹ بھی لے سکتی ہے۔پولیس کے مطابق ملزم نے بیان دیا ہے کہ ا س کا موبائل نمبر اس کے  بردار نسبتی کے پاس تھا۔ وہ اپنے برادر نسبتی عباس کو بھی پولیس کے سامنے پیش ہونے کا کہہ کر آیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ امید ہے عباس بھی پولیس کے سامنے پیش ہوجائے گا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ حوالگی کے بعد مزید تحقیقات کی جائیں گی اور ملزم کا ڈی این اے ٹیسٹ کروانے کے لیے نمونے لیے جائیں گے۔

قبل ازیں پولیس نے تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ملزم وقار الحسن شیخوپورہ کےعلاقے قلعہ ستار شاہ کا رہائشی ہے، ملزم کا شناختی کارڈ نمبر 7-1699963-35401 ہے۔  وقار نے اپنے ساتھی کے ہمراہ پنجاب کے مختلف اضلاع میں دوران ڈکیتی اور زیادتی کی وارداتیں کی ہیں۔

واضح رہے ایک روز قبل ہی وقار الحسن کو موٹروے زیادتی کیس کا بھی  مرکزی ملزم قرار دیا گیا تھا اور اس سے متعلق تفصیلات جاری کی گئی تھیں۔ اور گرفتاری میں مدد کرنے پر 25 لاکھ روپے انعام دینے کا اعلان بھی کیا گیا تھا۔ تاہم آج ملزم  وار نے خود کو پولیس کے حوالے کردیا ہے۔ جب کہ پولیس تاحال دوسرے مرکزی ملزم عابد علی کی تلاش میں ہے۔

افسوس ناک واقعہ

گجر پورہ کے علاقے میں موٹروے پرانسانیت سوز واقعہ سامنے آیا ۔ گوجرانوالہ کی رہائشی ثنا نامی خاتون ڈیفنس میں رہائشی اپنی بہن سے ملنے کے لیے لاہورآئی تھیں۔ واپسی کے دوران ثنا کی کارکا پیٹرول ختم ہوگیا، انہوں نے اپنے عزیزسردار شہزاد کو اطلاع کردی اور وہ مدد کے انتظار میں گاڑی سے اتر کر کھڑی ہوگئیں۔

اس دوران دو مشکوک افراد خاتون کی جانب آئے، جنہیں دیکھ کرخاتون اپنے بچوں کے ساتھ گاڑی میں محصورہوگئی ۔ ڈاکوؤں نے خاتون کوشیشے کھولنے کے لیے کہا جب خاتون نے شیشے نہ کھولے تو ڈاکوؤں نے شیشے توڑ کر گن پوائنٹ پر اس کو گاڑی سے اتار کر کیرول گھاٹی میں واقع کھیتوں میں لے جا کر زیادتی کرتے رہے۔

ذرائع کے مطابق ڈاکوؤں نے خاتون کو اس کے بچوں کے سامنے زیادتی کا نشانہ بنایا ۔ بعد ازاں خاتون کی حالت غیر ہونے پر دونوں خاتون کو وہیں پر چھوڑ کر فرار ہوگئی۔ ڈاکو خاتون سے ایک لاکھ نقدی ، دو تولے طلائی زیورات، ایک عدد برسلیٹ، گاڑی کا رجسٹریشن کارڈ اور 3 اے ٹی ایم کارڈز لیکر فرار ہو گئے۔

خاتون کا عزیز سردار جب گاڑی کے پاس پہنچا تو خاتون وہاں سے غائب تھی اور گاڑی کے شیشے کیساتھ خون لگا ہوا تھا ۔ خاتون کے عزیز نے خاتون کو تلاش کرنے کی کوشش کی تو کرول گھاٹی کے جنگل کے پاس خاتون گاڑی کی طرف آتی ملی جس پر خاتون نے روتے ہوئے اپنے عزیز کو ساری بات کے بارے میں آگاہ کیا۔

واقعے کی اطلاع ملنے پر فرانزک اور پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی ۔ پولیس نے خاتون کے رشتہ دار سردار شہزاد کے بیان پر مقدمہ درج کرکے سیف سٹی کے کیمروں کی مدد سے ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے ۔

گجر پورہ زیادتی کیس میں پولیس نے ملزمان کا خاکہ تیار کر لیا ہے، خاتون کی ابتدائی میڈیکل رپورٹ میں بھی ذیادتی ثابت ہو گئی ہے، جس کے بعد ملزمان کی گرفتاری کے لیے سی آئی اے اور انوسٹی گیشن کی مشترکہ ٹیم کام کر رہی ہے، پولیس افسران نے جائے وقوعہ کا خود بھی دورہ کیا ہے۔

دوسری جانب ترجمان موٹر وے پولیس کا کہنا ہے کہ قومی چینلز پر خاتون کے ساتھ ہونے والا افسوسناک واقعہ موٹروے پولیس کے حدود میں نہیں ہوا، کرول گھاٹی اور تھانہ گجر پورہ کا علاقہ موٹروے پولیس کے علاقہ میں نہیں ہے، رنگ روڈ اور لاہور سیالکوٹ موٹروے پولیس کے پاس نہیں ہے۔

وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پنجاب سے رپورٹ طلب کرلی، وزیراعلی نے پولیس کو ملزمان کی گرفتاری اور خاتون کو انصاف فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.