مویشی منڈیوں میں قربانی کے جانوروں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں

0

- Advertisement -

کوئٹہ(اسٹاف رپورٹر)عید قربان کی آمد کیساتھ ہی مویشی منڈیوں میں قربانی کے جانوروں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں ،گزشتہ سال کی نسبت جانوروں کی قیمتوں میںنوے فیصدتک اضافہ دیکھاگیاہے،سفیدپوش اورمتوسط طبقے کے لوگ خالی ہاتھ گھروں کو لوٹ رہے ہیں ،قربانی کافریضہ اداکرنے سے محروم ہونے کاخدشہ ہے،عوامی حلقوں نے حکومت سے نوٹس لینے کامطالبہ کیاہے۔تفصیلات کے مطابق عید قربان کی آمد کیساتھ ہی کوئٹہ سمیت بلوچستان کے دیہی علاقوںمیں قربانی کے جانوروں کی قیمتوں میں ہوشربااضافہ ہوگیا ،صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مستونگ،دشت،نوشکی،چاغی،خاران،پشین،چمن،ژوب،سبی،جعفرآباد،ڈیرہ مرادجمالی سمیت مختلف اضلاع میں قربانی کے جانوروں کی قیمتوں کو پرلگ گئے ہیں،مویشی منڈی میں انتہائی لاغرجانوربھی 17ہزارسے لیکر20ہزارروپے تک فروخت کیاجارہا ہے ،جبکہ قربانی کیلئے زیادہ موزوں جانوروں کی قیمتیں 40سے 50ہزارروپے تک ہیں،گائے اوربیل کی قیمتیں توغریبوں کی دست رس میں نہیں ہیں ،قربانی کے جانوروں کی قیمتیںسن کرلوگوں کے اوسان خطا ہوگئے ،سنت ابراہیم کی ادائیگی کیلئے مویشی منڈیوں سے خالی ہاتھ واپس لوٹنے والے لوگ پریشانی میں مبتلاہوگئے ہیں ۔بیوپاریوں نے بتایاکہ ایک طر ف پاک ایران اورافغان بارڈرزکی بندش دوسری جانب ٹڈی دل نے حملہ کرکے فصلات کو تباہ کردیاجبکہ طویل عرصہ سے جاری خشک سالی کی وجہ سے مالداری کاشعبہ بھی متاثرہوگیا ہے ،عرصہ درازسے بارڈرزبندہیں جہاں سے مال نہیں آرہا اوران کے پاس قربانی کیلئے اتنے زیادہ جانورنہیں ہیں ، دیہی علاقوں میں زمیندارخشک سالی اورحکومت کی جانب سے دادرسی نہ ہونے کی وجہ سے نالاں دکھائی دے رہے ہیں انہوں نے بتایاکہ حکومت کی جانب سے انہیں کسی قسم کی مالی امدادفراہم نہیں کیاگیااوروہ اپنی مددآپ کے تحت اپنی مال مویشیوں کیلئے چارے کابندوبست کررہے ہیں خشک سالی کی وجہ سے چارہ بھی ناپیدہوگیا ہے ،اوروہ جانورمہنگاخریدنے پر مجبورہیں ۔عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا کہ ایس اوپیز کے تحت بارڈرزکوکھلول کرکاروبارکی اجازت دی جائے تاکہ وہاں سے قربانی کے جانورلائے جاسکیں اورمویشی منڈیوں میں قیمتوں میں توازن برقراررہ سکے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.