صوبائی بجٹ سے حکومتی اراکین اوراتحاد جماعتیں بھی نالاں نظرآرہے ہیں

0

- Advertisement -

[2:56 pm, 30/06/2020] 92 YaYa: کوئٹہ(رپورٹ: یحییٰ ریکی)حالیہ صوبائی بجٹ سے حکومتی اراکین اوراتحاد جماعتیں بھی نالاں نظرآرہے ہیں ،حکمران جماعت سے تعلق رکھنے والے ایم پی ایز سمیت اتحادی جماعت کے رکن کے بجٹ اجلاس سے بائیکاٹ سے واضح ہوگیا کہ حالیہ بجٹ میں مختلف حلقوں کونظراندازکیاگیا ۔کہیں کسی نے اجلاس سے بائیکاٹ کی توکہیں منتخب نمائندے نے اپنے حلقے میں ترقیاتی کام نہ کرنے سمیت کوئی بھی پی سی ون نہ بھیجنے کاعندیہ دیدیا۔تفصیلات کے مطابق بلوچستان کے آئندہ مالی سال کا 465 ارب 52کروڑ 80لاکھ روپے کا ٹیکس فری بجٹ 20جولائی2020کوصوبائی اسمبلی میں پیش کردیا گیا۔بلوچستان اسمبلی کے اسپیکر عبدالقدوس بزنجو کی زیرصدارت اجلاس میں مالی سال21-2020ءکےلئے صوبائی وزیر خزانہ میر ظہور احمد بلیدی نے87 ارب روپے کے خسارے کا بجٹ پیش کیا۔وزیر خزانہ کی بجٹ تقریر شروع ہوتے ہی حزب اختلاف کے اراکین اسمبلی نے بجٹ دستاویزات اسپیکر کی کرسی کے سامنے رکھ دیں اور اجلاس سے واک آﺅٹ کرگئے۔اجلاس کے دوران سابق وزیراعلیٰ بلوچستان نواب محمداسلم رئیسانی نے بھی حکومت سے ناراضگی کااظہارکیااوربجٹ کی دستاویزات اسپیکرکی کرسی کے سامنے رکھ کرایوان سے چلے گئے۔صوبائی وزیر خزانہ میر ظہور احمد بلیدی نے بتایا کہ بجٹ میں ترقیاتی مد میں 156 ارب سے زائد اور غیرترقیاتی مد میں 309 ارب روپے سے زائد رقم مختص کی گئی ہے۔بلوچستان حکومت کی جانب سے 87 ارب روپے کے خسارے کے بجٹ میں 6 ہزار 840 خالی آسامیوں کا بھی اعلان کیا گیا ہے تاہم بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔بجٹ دستاویز کے مطابق بجٹ میں کورونا وائرس اور آفات سے نمٹنے کے لئے 8 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ حکومت بلوچستان نے کوروناوائرس ایمر جنسی فنڈ کااجراءکیا، جس کیلئے ایک ارب روپے مختص کئے ہیں۔بلوچستان کے بجٹ میں تعلیم کے لئے70 ارب، صحت کے لئے 50 ارب، مواصلات و تعمیرات کے لئے 45ارب، امن اوامان کیلئے 44ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔بجٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے حکمران جماعت کے اتحادی اورپاکستان تحریک انصاف کے رکن صوبائی اسمبلی نصیب اللہ مری نے کہا کہ پی ٹی آئی بلوچستان عوامی پارٹی کی اتحادی جماعت ہے، صوبائی بجٹ میں ہمارے حلقوں کیلئے بہترمنصوبے نہیں رکھے گئے ہیں جس طرح حکومت کورکھناچاہئے تھا،انہوں نے کہا کہ ہم نے مائنزمیں سے سات سات لاشیں ایک ساتھ اٹھائے ہیں،ان کے حلقے میںبجلی نہ ہونے کے برابرہے،پانی ذخیرہ کرنے کیلئے ڈیمز بھی نہیں ہیں،ہمارے اضلاع پہلے سے کافی پسماندہ ہیں جہاں پر روڈتک نہیں ہیں ، گزشتہ ادوارمیں ہمیں جو اسکیمات ملے ان کومکمل کیااوراب بھی کام جاری ہے۔انہوں نے مزیدکہا کہ اپوزیشن اراکین ہمارے بھائی ہیں انہیں بھی لوگوں نے ووٹ دیکر منتخب کیا ہے ،پچھلی حکومت نے انہیں نظراندازکیااورکوئی فنڈزنہیں دیئے اس لئے آج ان کاکوئی رکن اسمبلی میں موجودنہیں ہے،اپوزیشن اراکین کو بھی برابری کی بنیادپر اسکیمات ملنے چاہئیں،انہوں نے کہا کہ بلوچستان اسمبلی میں اراکین تعدادبھی اتنی زیادہ نہیں ،ہم نے خوشی اورغم کے لمحات ایک ساتھ گزارنا ہے،ایسا نہ ہو کہ ہم اس کے بعد ایک دوسرے کیساتھ ہاتھ تک نہ ملاسکیں۔انہوں نے کہا کہ میرے ضلع میں کچھ دنوں سے مداخلت ہورہی ہے ،صوبائی وزیرمواصلات نے ان کے حلقے سے ایکسین کاتبادلہ کیا جس پر انہوں نے عدلیہ سے رجوع کرکے تبادلہ واپس کیا تاہم اب ایس ڈی اواورسب انجینئرکاتبادلہ کیاگیاایسانہیں ہونا چاہئے ہم نے بھی وزیراعلیٰ بلوچستان کو ووٹ دیاہے تھا کہہ کروہ ایوان سے احتجاجاًچلے گئے۔حکمران جماعت بلوچستان عوامی پارٹی کے رکن اسمبلی لالارشید دشتی نے کہا کہ پچھلے سال ان کے حلقے کاایک منصوبہ تعطل کاشکارہوگیا اسے پرنٹنگ کامعاملہ کہہ کر ملتوی کیاگیا اورکہاگیا کہ آنےوالے بجٹ میں ہوجائیگااس مرتبہ پھر وہی معاملہ اختیارکیاجارہا ہے لگتا ہے کہ بیوروکریسی اپنی برادری کو بچانے کیلئے منتخب نمائندوں کو دھوکہ دیکر طفل تسلیاں دے رہی ہے ،کیبنٹ اجلاس میںجام کمال خان نے منظوری دی اس کے باوجود وہ منصوبہ موجود نہیں ہے ،تاہم زیرالتواءمنصوبہ شامل نہیں کیاگیا ،وہ احتجاج کااعلان کرتے ہیں اوران کے حلقے سے کوئی پی سی ون تیارہوکر نہیں آئیگااورکوئی کام نہیں کرنے دوںگا، ان خالی وعدوں پران کابھروسہ ٹوٹ گیا ہے ،میں نے اپنے ورکروں اورعوام کوجوابدہ ہوں،ان الفاظ کیساتھ وہ بھی ایوان سے واک آﺅٹ کرگئے۔اس دوران بی این پی کے رہنماءورکن صوبائی اسمبلی احمد نوازبلوچ نے کہا کہ حکومتی اراکین کی جانب سے بجٹ اجلا س کابائیکاٹ کیاجارہا ہے ، ہم نے ان معامالت سے متعلق زیراعلیٰ جام کمال کو بارہا گوش گزارکرائی مگر ہماری بات نہیں سنی گئی اب حکومتی اراکین کھل کراس کااظہارکررہے ہیں ۔عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈراصغرخان اچکزئی لیویزفورس کی تنخواہوں میں اضافے کی تحریک پیش کی ،ان کے مطابق لیویزفورس کے اہلکار قبائلی اضلاع میںاپنی ذمہ داریاںاحسن طریقے سے نبھا رہے ہیں اوران کی کاوشوں سے امن ومان کی صورتحال بہترہورہی ہے، تحریک میں مطالبہ کیا کہ لیویزاہلکاروں کی تنخواہوں میں اضافہ کرکے انہیں جدیداسلحہ اورٹیکنالوجی سے لیس کیاجائے تاکہ وہ کی بھی ہنگامی صورتحال سے بہترطریقے سے نمٹ سکیں، تاہم تحریک کے مطابق تنخواہوں میں اضافہ نہ کرنے کیخلاف انہوں نے صوبائی وزیرزراعت انجینئرزمزک خان اچکزئی، مشیر ایکسائزاینڈٹیکسیشن ملک نعیم بازئی کے ہمراہ اجلاس سے واک آﺅٹ کیا۔قبل ازیںبجٹ اجلاس کے دوران ملک نعیم بازئی نے اپوزیشن لیڈرکو ٹوپی ماسٹرکہا جس پر اپوزیشن اراکین نے اس کی مذمت کی اوراپنے الفاظ واپس لینے کاکہاتاہم اس دوران وزیرداخلہ کی جانب سے دھمکی آمیزرویہ اختیارکرنے پر اپوزیشن اراکین نے ناراضگی کااظہارکیا اس دوران ایوان مچھلی بازاربن گیا اسپیکر میرعبدالقدوس بزنجواراکین کوخاموش کراتے رہے، اسپیکر نے صوبائی وزرداخلہ میرضیاءلانگواوررکن اسمبلی میراکبر مینگل کی رکنیت تین دن کیلئے معطل کردی تاہم اگلے دن قراردادلائی گئی جس کے بعد اراکین کی رکنیت واپس بحال کردی گئی۔دوسری جانب صوبائی وزیرخزانہ سالانہ بجٹ2020/21کومتوازن اورعوام دوست بجٹ کہہ رہے ہیں جبکہ دیکھا جائے کہ اس میں ملازمین کویکسرنظراندازکرکے انہیںکوئی بھی ریلیف نہیں دیاگیا ۔
[3:08 pm, 30/06/2020] Khair Muhammad: Ok

Leave A Reply

Your email address will not be published.