حکومت بلوچستان نے تو کمال کر دیا

0

 حکومت بلوچستان نے تو کمال کر دیا۔۔۔!
تحریر:سردارزادہ تنویر سمالانی

20دن پہلے بلوچستان کے اپوزیشن جماعت سے تعلق رکھنے والے ممبر صوبائی اسمبلی ثناء بلوچ نے حکومت بلوچستان کے ناقص انتظامات پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ تفتان میں رکھے گئے زائرین کو کورائینٹائن کرنے کی بجائے ان میں مزید وبا کو پھیلایا جا رہا ہے۔ ثناء بلوچ کے ایسے بیانات کو حکومت بلوچستان نے ذاتی انا کا مسئلہ سمجھ کر ثناء بلوچ پر سی ایم ہاوس کے پوڈئیم سے حملہ کرتے رہے ۔ ترجمان حکومت بلوچستان نے تو ذاتیات کی حد کر دی۔ ایک رپورٹر کو جواب دیتے ہوئے یہ تک کہا کہ جب تک ثناء بلوچ صوبے میں موجود ہے کسی کو ماسک پہنے کی ضرورت ہی نہیں ۔ جیسے ہی ثناء بلوچ صوبے سے فرار ہو جائے تو عوام اس دن سے احتیاطی تدابیر اختیار کرلے۔ اب آپ خود ہی فیصلہ کریں کہ حکومت بلوچستان اس موذی مرض کو کتنی سنجیدگی سے لے رہا ہے۔ کل کوئٹہ کے شہرمیں ہم نے حکومت کے کسی نمائندے کو عوام میں شعور اجاگر کرتے نہیں دیکھا۔ یہی ثناء بلوچ شہر کے مختلف علاقوں میں گھوم رہے تھے اور عوام میں اس موذی مرض کے بارے میں مہم چلا رہے تھے۔ عوام میں خوف و ہراس کو ختم کرنے کے لئے سوشل میڈیا پر لوگوں کو آگاہی فراہم کرنا حکومت کا کام ہے اور ثناء بلوچ اس کام سے بھی پیچھے نہیں ہٹے۔
ثناء بلوچ نے آج سے 20 دن پہلے تفتان کے قرنطینہ میں رکھے گئے زائرین کے بارے میں خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان زائرین کو حکومت نے ایسے رکھا ہے کہ ان میں سے اگر کوئی ایک بھی کرونا کا شکار ہو تو اس سے کئی اور کو بھی اب تک لگ چکا ہو گا۔ سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے آج حکومت بلوچستان اور وفاق پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ تفتان میں بنایا گیاقرنطینہ دنیا کا سب سے منفرد قسم کا قرنطینہ تھا، جس میں 500 افراد کو ایک ساتھ رکھا گیا تھا۔ بلوچستان کے اپوزیشن نے پہلے ہی اس پر اپنے خدشہ کا اظہار کر چکا تھا۔
وہ صوبائی حکومت کو پہلے ہی کہہ چکے تھے کہ وفاق کو لکھا جائے اور ان سے مدد مانگی جائے۔ پاکستان میں آج تک جتنے بھی کرونا کے مریض سامنے آ رہے ہیں ان سب میں سے 70 فیصد لوگوں کو تفتان میں ناقص سہولیات کی وجہ سے یہ وبا لاحق ہوئی۔

- Advertisement -

تازہ رپورٹ یہ ہے کہ اب تفتان سے 2797 مزید زائرین کو پاکستان کے مختلف شہروں تک پہنچایا جارہا ہے ۔ پریشانی کی بات اب پھر یہ ہے کہ تفتان سے یہ سب اب اپنے علاقوں کو جائیں گے یا ان کو صوبوں میں کورائینٹائن کیا جائے گا۔ تفتان کوئٹہ شہر سے 650 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے اور 2797 لوگوں کو انکے علاقوں تک پہنچنے کے لئے 1500 سے 2000 کلومیٹر کا مسافت طے کرنا پڑے گا اور یہ سب زائرین 60 بسوں پر ایک کانوائے کی شکل میں نکلیں گے ۔ اور انکو اپنے صوبوں تک پہنچنے کے لئے 2 سے 3 دن لگیں گے۔ اور اپنے سفر کے دوران یہ مختلف علاقوں میں رکیں گے جس سے یہ وبا لوکل علاقوں مقامی افراد میں تیزی سے پھیلنے کا قوی امکان اور اندیشہ ہے ۔ وفاقی حکومت سے درخواست ہے کہ ان کو کسی ہوائی جہاز میں لے جانے کا بندوبست کیا جائے تاکہ اس پر قابو پایا جا سکے.

Leave A Reply

Your email address will not be published.