پاکستان کے ایران کے ساتھ اپنی سرحد کو غیر معینہ مدت تک کے لیے بند کرنے کے فیصلے

0

- Advertisement -

پاکستان کے ایران کے ساتھ اپنی سرحد کو غیر معینہ مدت تک کے لیے بند کرنے کے فیصلے کے بعد ملک میں ایران سے آنے والی روزمرہ اشیا اور تیل کی قلت کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے کرونا وائرس کے خطرے کے پیشِ نظر حکومتِ پاکستان نے اس سرحد کو بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے بلوچستان کے ضلع چاغی کے اسٹنٹ کمشنر نجیب قمبرانی نے غیر ملکی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ یہ بارڈر کب کھلے گا یہ ابھی نہیں کہا جا سکتا کیونکہ فی الحال خطرہ مول نہیں لیا جا سکتاپاکستان اور ایران کے درمیان 904 کلومیٹر طویل سرحد ہے۔ بلوچستان کے سرحدی اضلاع میں چاغی، واشک، پنجگور، کیچ، تربت اور گودار شامل ہیں۔ یہ اضلاع ایران کی اشیا کی ایک بڑی مارکیٹ ہیں۔ ان علاقوں میں اشیائے خورد و نوش سمیت تیل اور موٹر سائیکلیں بھی ایرانی استعمال ہوتی ہیں، جبکہ یہاں سرکاری طور پر ایران کی جانب سے بجلی بھی فراہم کی جاتی ہے۔سرحدی شہر تفتان کا بارڈر امیگریشن اور باضابطہ تجارت کے علاوہ ہفتے میں تین روز تجارت کے لیے کھولا جاتا ہے۔ تجارت کے ان دنوں میں پاکستان کے مزدور کندھوں اور ہتھ ریڑھیوں پر ایران سے عام استعمال کی چیزیں لاتے ہیں جن میں زیادہ تر سبزیاں، پھل، شہد، بیکری آئٹمز، مشروبات اور کراکری کا سامان شامل ہوتا ہے اس تجارت پر کسی قسم کا ٹیکس عائد نہیں کیا جاتا۔ دونوں ممالک کے درمیان معاہدے کے مطابق پاکستان سے موسمی پھل ایران جاتے ہیں۔ چاغی کے اسسٹنٹ کمشنر نجیب قمبرانی کا کہنا ہے کہ روز مرہ کی اشیائے خورد و نوش اہم نہیں ہیں اور اس مسئلے کے حل کےلیے انتظامیہ دوسرے شہروں سے ان اشیا کی فراہمی کو یقینی بنائے گی۔تفتان میں نہ کاشت کاری ہوتی ہے اور نہ ہی یہاں کوئی دوسرا بڑا ذریعہ روزگار ہے۔ یہاں کے مقامی لوگوں کا سارا دارو مدار زیرو پوائنٹ، سرحدی کراسنگ، پر ہے جہاں سے مزدوری اور تجارت کے مواقع دستیاب ہوتے ہیںصرف زیرو پوائنٹ کی تجارت سے لگ بھگ 2500 مزدوروں کا روزگار وابستہ ہے۔چند مزدور بارڈر پار سے سامان لاتے ہیں، چند انھیں لادتے ہیں جبکہ دوسرے انھیں گاڑیوں پر لوڈ کر کے تفتان شہر میں دکانوں تک پہنچاتے ہیں۔ اس طرح 15 ہزار آبادی کے شہر تفتان کی معیشت اسی تجارت سے چلتی ہے۔بلوچستان کے سرحدی علاقوں سے مزدور کام کاج کے لیے ایران کے صوبے سیستان اور دیگر علاقوں میں بھی جاتے ہیں جس کے لیے انھیں مقامی راہداری دی جاتی ہے۔ایران سے ایل پی جی گیس کے ٹینکر تفتان آتے ہیں جہاں سے یہ گیس مقامی ٹینکروں کے ذریعے زیادہ تر پنجاب منتقل کی جاتی ہے جبکہ مقامی طور پر یہ گیس چھوٹے سلنڈروں میں فروخت کی جاتی ہے۔ اسی طرح کوئٹہ سے زاہدان ٹرین چلتی ہے جس میں زیادہ تر سیمنٹ، سکریپ، کھجور، ٹائلز اور ڈامر لایا جاتا ہے۔ حکومت پاکستان کے حالیہ فیصلے کے بعد یہ ٹرین سروس بھی معطل رہے گی۔چاغی، واشک، پنجگور، کیچ، تربت اور گودار کے اضلاع میں ایرانی تیل اور ڈیزل سے ہی مواصلاتی نظام چلتا ہے۔ یہ تیل آسمانی رنگ کی پک اپ میں، جسے زمباد کہا جاتا ہے، سمگل کیا جاتا ہے۔حکومت پاکستان نے حال ہی میں کئی سرحدی علاقوں میں باڑ لگا دی ہے جس سے سمگلنگ میں کمی تو آئی ہے لیکن یہ سلسلہ رک نہیں پایا، مقامی لوگوں نے اس بندش کے خلاف احتجاج بھی کیا ہے۔ ان اضلاع میں کاشت بارشوں کی مرہون منت ہوتی ہے جبکہ چاغی، واشک اور تربت میں دو سال قبل تک خشک سالی تھی جس کے بعد شدید بارشیں ہوئیں۔ یہاں کی آبادی کا ایک اچھا خاصا حصہ سمگلنگ سے ہی گزر بسر کرتا ہے تاہم کرونا وائرس کی پیش نظر ایف سی اور لیویز کی جانب سے نگرانی کے نظام میں سختی لائی گئی ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.