کوئٹہ :نوجوان اغواءکے بعد قتل ، لواحقین کا میت کے ساتھ احتجاج ، اہم شاہرائیں بند

0

- Advertisement -

کوئٹہ سے اغواءہونے والے نوجوان کی اغواءکاروں کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد لواحقین کا زرغون روڈ جی پی او چوک پر میت رکھ کراحتجاج کا سلسلہ جاری ہے ۔مقتول کے لواحقین کاکہناہے کہ جب تک حکمران اور انتظامیہ کے آفیسران انہیں اس بات کی گارنٹی نہیں دیتے کہ مقتول کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچایاجائے گااس وقت تک ان کااحتجاج اور دھرنا جاری رہے گا۔واضح رہے کہ پیر کے روز کوئٹہ کے علاقے شیخ ماندہ سے تعلق رکھنے وا لے 18سالہ نوجوان غوث اللہ کی لاش قلعہ عبداللہ کے علاقے سے ملی تھی جس سے پوسٹ ما رٹم کے لئے سول ہسپتال کو ئٹہ منتقل کر دیا گیا تھا گزشتہ روز ضابطے کی کارروائی کے بعدنعش ورثاءکے حوالے کردی گئی تو مقتول کے ورثاءاور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد میت کے ہمراہ گو ر نر بلو چستان اور وزیر اعلیٰ ہا ﺅس کی جا نب روانہ ہو گئے تا ہم پو لیس کی جا نب سے انہیں جی پی او چوک پر روک لیا گیا جس پر انہوں نے وہاں دھر نا دیا ۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ مغوی نوجوان ماہ اگست میں لاپتہ ہوئے تھے جس کو مہینے گزر گئے لیکن اس دوران حکومت اور انتظامیہ مغوی نوجوان کی بازیابی اور اس کے اغواءمیں ملوث افراد کا سراغ لگانے میں مکمل طورپرناکام رہے اور گزشتہ روز انہیں گولیاں مار کر قتل کرنے کے بعد لاش ویرانے میں پھینک دی گئی ،انہوں نے کہاکہ جب تک وزیراعلیٰ بلوچستان ،انتظامیہ کے اعلیٰ حکام انہیں گارنٹی نہیں دیتے کہ قاتلوں کی گرفتاری بہر صورت عمل میں لائی جائےگی اس وقت تک ان کا احتجاج جاری رہےگاانہوں نے کہاکہ اغواءکاروں کی جانب سے مغوی کے خاندان سے کروڑوں روپے تاوان کامطالبہ کیاجاتا رہا اور اس سلسلے میں پولیس حکام کو برابر آگاہ کرتے رہے لیکن وہ اغواءکاروں کی نشاندہی اور ان کی گرفتاری میں مکمل طورپر ناکام رہے اسی لئے آج انہیں نوجوان کی لاش ملی ہے ۔انہوں نےالزام عائد کیا کہ ایسا صرف اس مغوی نوجوان کے ساتھ نہیں ہوا بلکہ اغواءکاروں کی جانب سے اس سے قبل بھی لوگوں سے کروڑوں روپے تاوان لیاگیاہے بلکہ متعد د افراد جان سے بھی ماردیاگیاہے ہم اس وقت تک احتجاج کرتے رہیںگے جب تک ہمیں قاتلوں کی گرفتاری کی گارنٹی نہیں دی جاتی اس سے قبل بھی ہمارے خاندان کے دو افراد اغواءکئے جاچکے ہیں جس میں مقتول کا والد اور قریبی رشتہ دار شامل ہیں اس موقع پر احتجاجی مظاہرین کی جانب سے حکومت اور انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی بھی کی گئی ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.