کوئٹہ سبی المعروف خونی شاہراہ پر کئی زندگیوں کے چراغ گل کردیئے دشت (سروے رپورٹ خالق بنگلزئی)

0

- Advertisement -

دشت (سروے رپورٹ خالق بنگلزئی) تحصیل دشت سے ملک کے اندرونی و بیرونی علاقوں تک جانے والے قومی نیشنل ہائی ویز کوئٹہ کراچی اورکوئٹہ سبی جیکب آبادقومی شاہراہ المعروف خونی شاہراہ پر حادٹات کی صورت میں  کئی زندگیوں کے چراغ گل کردیئے

اور کئی افراد زخمی ہوکر ناکارہ ہوچکے ہیں ان بڑے قومی شاہراہوں پر اکثر رش اور بڑے بڑے خطرناک موڑ ہیں سبی نیشنل ہائی وے پر اکثر اینٹوں سے بھرے ٹریکٹروں کی وجہ سے آئے روز ایکسیڈنٹ ہوتے ہیں ان خیالات کا اظہار دشت کے سماجی وسیاسی ورکرز ملک رفیق شاہوانی، محمد حسن بنگلزئی،محمدنواز ، محمد گل لہڑی، فہیم بلوچ، عرفان شاہوانی، میر عبدالحمید گرانی، ٹکری مراد خان بنگلزئی، عامر پرکانی، مولابخش کرد  نے ایک سروے رپورٹ میں دشت کے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ بار بار دشت سے گزرنے والے ان بڑے قومی شاہراہوں کو ڈبل دو رویہ کرنے کے مطالبے کے باوجود این ایچ اے اور حکومت خواب خرگوش کے مزے لے رہی ہے شاہد حکومت اور این ایچ اے کو ان معصوم لوگوں کی لاشیں نظر نہیں آتیں اس وقت کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ اور کوئٹہ سبی جیکب آباد قومی شاہراہ کو ڈبل دو رویہ کرنا تمام کاموں سے اہم ہے ان میں تاخیر  عوام کی زندگیوں سے کھیلنے کے مترادف ہوگا
کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ جوکہ اب قومی شاہراہ نہیں رہی ہے بلکہ گوادر رپورٹ کی وجہ سے یہ ایک انٹرنیشنل بین الااقوامی شاہراہ بن چکا ہے لیکن کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ اور سبی کوئٹہ شاہراہ میں ناقص میٹریل استعمال ہونے کے باعث دونوں قومی شاہرائیں بعض جہگوں پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوچکے ہیں اکثر پل بیٹھ چکے ہیں ایف ڈبلیو او جو کہ پاکستان کا مایہ ناز تعمیراتی کمپنی ہے اس کمپنی نے بھی لکپاس کو اس بین الااقوامی معیار کا ٹنل اور سڑک تعمیر نہ کر سکی لکپاس کے اس سڑکیں مکمل طور پر نیچے بیٹھ چکے ہیں حالانکہ جو پراجیکٹ لکپاس کا تھا وہ دو رویہ تھا لیکن پرانے لکپاس کے راستہ کو آج تک مکمل نہیں کیا گیا جبکہ ایف ڈبلیو او ۔این ایچ اے لکپاس ٹول پلازہ سے سالانہ کروڑوں روپے کما رہی ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ دونوں قومی شاہراہوں کو بین الااقومی معیار کے مطابق از نوتعمیر کرکے دو رویہ کیا جائے اور لکپاس  کو بھی دو رویہ کرنے کے لئے پرانے سڑک جوکہ پراجیکٹ میں شامل تھا بنا کر ٹریفک کے لئے کھول دیا جائے تاکہ مزید قیمتی جانو کا ضیاء نہ ہو۔انہوں نے کہا کہ وہ بھی حکمران تھے جو فرمایا کرتے تھے کہ دریائے دجلہ کے اس پار بھی کسی شخص کی موت واقع ہوجائے تو اس کا ذمہ دار خود کو ٹہراتے تھے جبکہ کوئٹہ کراچی اور کوئٹہ سبی جیکب آباد قومی شاہراہ پر  اتنے بڑے بڑے حادثات اور ان حادثات کے نتیجے میں اب تک سینکڑوں افراد جان بحق اور ہزاروں  شدید زخمی اور ناکارہ ہو چکے ہیں مگر حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی  انہیں کیا پرواہ وہ تو جہازوں و ہیلی کاپٹروں  میں سفر کرتے ہیں سڑکوں کی تنگی و ٹریفک کے دباؤ سے انہیں فرق نہیں پڑتا  فرق ان کو پڑتا ہے جن کے جوان سال  لخت جگر، جن کے شوہر،  جن بچوں کے والدین، جن بہنوں کے بھائی  جس گھر کا واحد کفیل  ہمیشہ کے لیے ان سے بچھڑ جاتا ہے  ٹیکسوں کی بھرمار لکپاس ٹول پلازہ پر حال ہی میں  شرع ٹیکس میں اضافہ کردیا گیا مگر نہ معلوم یہ پیسے کہاں جاتے ہیں سڑکیں تنگ اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں لیکن اس پر کوئی پوچھنے والا نہیں۔ انہوں نےکہا کہ تیرا میل ایریا سے لیکر گونڈین پھاٹک تک  خطرناک موڈ ہے ان موڈوں پر آنے جانے والے مسافر گاڑیوں کو حادثہ پیش آتے ہیں اور ان حادثات میں بڑے بڑے نقصانات رونما ہوتے ہیں ۔انہوں نے حکومت بلوچستان کے حکام بالا سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ کراچی اور کوئٹہ سبی قومی شاہراہوں کو ڈبل دو رویہ کرکے تاکہ صوبائی دارلحکومت کوئٹہ کیلئے آنے جانے والے مسافر مختلف حادثات سے محفوظ رہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.