مغرب کو سوچنا ہوگا جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں،مولانا عبدالغفورحیدری

0

- Advertisement -

جمعیت علما اسلام کے مرکزی سیکرٹری جنرل سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا ہے کہ مغرب کو سوچنا ہوگا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں، دہشتگردی سے سب سے زیادہ متاثر مسلمان ہوئے ہیں ، اسلام کا فلسفہ امن اور اخوت ورواداری کا ہے ، آئین پاکستان ہی اس ملک کی اساس ہے لیکن مقتدر قوتیں آئین پہ عمل در آمد نہیں کررہی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار جمعیت علما اسلام کے مرکزی سیکرٹری جنرل سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری نے پارٹی رہنماں سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کہا انہوں نے کہا کہ مغرب کو بھی سوچنا ہوگا کہ مسلمانوں کے خلاف نفرت نے کس قدر عالمی دنیا کو بدل کر رکھ دیا ہے حالات کا تقاضا ہے کہ اقوام عالم کو امن کی طرف لے جایا جائے جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں انہوں نے کہا کہ دہشتگردی سے مسلمانوں کو سب سے زیادہ نقصان ہوا ہے لیکن اسلام اور مسلمان پھر بھی نشانے پر ہے تاریخ میں ہم اپنی نسلوں کو بجائے خون خرابے کے ایک شاندار مستقبل دینی چائیے انہوں نے کہا کہ دنیا یک محوری ہوچکی ہے طاقت کا توازن تقسیم ہوگیا ہے ایک وقت تھا جب دنیا دو محوری تھی لیکن آج کے دور میں ہر ملک معیشت میں ترقی کرتا جارہا ہے اور چین خطے میں ایک پرامن اور طاقتور ملک کے طور پہ ابھرا ہے اس وقت چین اور ترکی کیساتھ پاکستان کے تعلقات مثالی ہے ہمیں اپنے ان دونوں محسنوں کی قدر کرنی چائیے انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ایک پرامن اسلامی اور فلاحی ریاست بنانے کی جدوجہد کررہے ہیں مگر بدقسمتی سے ملک پہ ایسے حکمران مسلط کیئے گئے جو مسائل کو سمجھنے سے عاری ہے انہوں نے کہا کہ ملک پہ رحم کیا جائے یہ ہم سب کا ملک ہے اس کیلئے بزرگوں نے قربانیاں دی ہے جب ملک اسلام کے نام پہ بنا ہے اور اسلام کے علاوہ کوئی قانون سازی نہیں ہونی اور حاکمیت اعلی صرف اللہ کی ہے تو کیا وجہ ہے کہ ہم ملک میں اسلامی دفعات کی حفاظت کررہے ہیں آخر وہ کونسی قوتیں ہے جو ملک میں اسلامی تعلیمات پہ حملہ آور ہے ختم نبوت کا قانون پارلیمنٹ کی مشترکہ کوششوں سے حل ہوا لیکن لگتا ہے کچھ قوتیں ملک میں ختم نبوت کے قانون کو چھیڑنا چاہتے ہے تاکہ مسلمانوں کے جذبات کو دیکھا جاسکے کہ ان میں کتنی غیرت ہے انہوں نے کہا کہ ملک میں احتساب یک طرفہ ہورہی ہے عدالتیں انصاف اور انون کے مطابق فیصلے کریں تو ملک کے حالات ٹھیک ہوجائینگے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.