بلوچستان میں صارف عدالت نہ ہونے کی و جہ سے صارفین کے مشکلات میں مسلسل اضافہ

0

- Advertisement -

بلوچستان میں صارف عدالت نہ ہونے کی و جہ سے صارفین کے مشکلات میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ حالانکہ بلوچستان میں 2003 میں صوبائی اسمبلی نے صارفین کے تحفظ کے لئے ایکٹ بنایا ہے لیکن سولہ سال گذرنے کے باوجود ایک بھی صارف عدالت نہ بن سکا۔ جو ایک سوالیہ نشان ہے۔ صوبے کے صارفین کو مارکیٹ مافیا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے جس کی وجہ صوبے میں کنزیومر کرائمز کی شدت میں انتہائی خطرناک حد تک اضافہ ہوتا جارہا ہے بلکہ اب صارفین کی زندگی سے کھلے عام کھیلا جار ہا ہے۔ ادویات اور دیگر اشیا ءخورد و نوش میں کیمکل اور جان لیوا ، مضہر صحت اشیاءخوبصورت پیکنگ میں شہد ملا کر زہر سر عام فروخت کیا جارہا ہے ۔ ملتی نیشنل کمپنیوں کی ادویات کو لوکل کمپنیاں خوبصورت پیکنگ میں پیک کر فروخت کر رہے ہیں۔ اشیاءخورد نوش کی اشیاءجو ایک زہر کے طور پر فروخت ہورہے ۔ صوبہ بھر میں پرائس کنڑول کمیٹی فعال نہیں۔ جس کی وجہ سے صارفین پریشان ہیں جبکہ دوسری جانب صارفین کو اپنے حقوق سے لاعلمی ، بے خبری اور شعور نہ ہونے کی وجہ سے مسائل بڑھ رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار عالمی یوم صارفین کے دن کے مناسبت سے کوئٹہ میں پامیر کنزیومر سوسائٹی اور کنزیومر رائٹس کمیشن اف پاکستان کے زیر اہتمام میٹرو پولیٹن کاپوریشن ہال میں منعقدہ صوبائی سیمینار بعنوان بلوچستان میں صارف عدالت کی ضرورت سے خطاب کرتے ہو ئے مقررین نے کہا۔ سیمینار سے صوبائی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ملک سکندر خان ایڈووکیٹ۔ کنزیومر رائٹس کمیشن اف پاکستان کے پروفیسر نادیہ علی۔ پامیر کنزیومر سوسائٹی کے چیف کوارڈینیٹر نذر محمد بڑیچ۔ بلوچستان یونین اف جنرلسٹ کے صدر ایوب ترین۔ کنزیومر رائٹس کے زرغونہ بڑیچ ایڈووکیٹ۔ انجمن تاجران کے صدر رحیم کاکڑ۔ نے خطاب کیا ۔ سیمینار میں بلوچستان مییں صارفین کے مسائل کے حوالے سے نذر بڑیچ جبکہ پاکستان میں صارفین کے مسائل پر پرفیسر نادیہ علی نے تفصیل کے ساتھ شرکاءسیمینار کو بریفینگ دی۔ مقررین نے عالمی یوم صارفین کے دن کے مناسبت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر صوبے میں صارف عدالتوں کے قیام کے لیے عملی کام کرے۔ کیونکہ صارف اس وقت پاکستان میں بالخصوص بلوچستان میں سخت اذیت میں ہے جس کے لیے صارف عدالت کا قیام ناگزیر ہے۔ انھوں نے پامیر کنزیومر سوسائٹی کے کردار کو سراہتے ہوے کہا ہے ہمیں صوبے میں اس طرح کی اداروں اور انجمنوں کی سخت ضرورت ہے جو عوام کو اپنے حقوق سے باخبر رکھے اور انھیں شعور دیں۔ کیونکہ پامیر کنزیومر سوسائٹی اس وقت صوبے میں صارفین کو ان کے حقوق کے متعلق شعور و آگائی، اشیاءاور خدمات کے بارے میں غیر جانبدارنہ تحقیقات اور معلومات کی فراہمی ، صارف دوست پالیساں بنانے، صارفین کو منظم کر کے ان کی تکنیکی معاونت کرنا، معاشی و معاشرتی ڈھانچے کی ناہموار یوں کو بے نقاب کر کے صارفین کے ہر قسم کی حقوق کے تحفظ کیلئے ہر فورم پر آواز بلند کر کے ممکنہ جدوجہد کواپنا اولین فریضہ کے طور پر ادا کررہی ہیں۔ جو انہتائی قابل ستائش اقدام ہیںسیمینار میں صوبے میں صارف عدالت کے قیام اور صارفین کے حقوق کے تحفظ اور صارفین کو شعور و اگائی دینے کے لیے پامیر کنزیومر سوسائٹی کے ساتھ ملکر مہم چلانے اور صوبے کے ہر فورم پر موئثر اواز بلند کرنے پر شرکاءسیمینار نے متفقہ طور کام کرنے کا عہد کیا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.