لورالائی میں جاںبحق ہونے والے پروفیسر ابراہیم (ارمان لونی ) کے ابتدائی رپورٹ آگیا

0

- Advertisement -

میڈیکل سپرنٹنڈنٹ سول ہسپتال کوئٹہ ڈاکٹر محمد سلیم ابڑو نے کہا ہے کہ لورالائی میں جاںبحق ہونے والے پروفیسر ابراہیم (ارمان لونی ) کے جسم پر پوسٹ مارٹم کے دوران تشدد کے نشانات نہیں ملے ،متوفی کی پوسٹ مارٹم کے وقت لورالائی کے ڈاکٹرز ،ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے رہنماءاور ان کے ورثاءبھی موجود تھے ،موت کی وجہ جاننے کیلئے ڈیڈباڈی سے دل اور خون کے نمونے لیکر لیبارٹری کو بھجوادئےے گئے ہیں جس کی رپورٹ 20دن تک ہمیں موصول ہوگی ۔ان خیالات کااظہار انہوں نے گزشتہ روز سول ہسپتال کوئٹہ میں پولیس سرجن ڈاکٹر عائشہ فیض ،ڈپٹی ایم ایس ڈاکٹر زبیر ودیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ ڈاکٹر محمد سلیم ابڑو نے میڈیا نمائندوں کو لورالائی میں جاںبحق ہونے والے پروفیسر ابراہیم (ارمان لونی ) کے میڈیکل رپورٹس اور امیجز بھی دیکھائے اور کہاکہ ہم نے پہلے روز ہی اپیل کی تھی کہ اس معاملے پر سیاست سے گریز کیاجائے انہوں نے کہاکہ پوسٹ مارٹم کے عمل کو فوری طرح شفاف رکھاگیا اور معاملے کی نزاکت کے پیش نظر میڈیکل ضوابط کی روایات کو بالا طاق رکھتے ہوئے تمام افراد کو جائے پوسٹ مارٹم تک رسائی فراہم کی گئی تاکہ کسی بھی قسم کے شکوک و شبہات نہ رہیں اور ناانصافی کا کوئی عنصر نہ رہے انہوں نےکہا کہ فرانزک لیب کی رپورٹ میں پروفیسر ارمانی کی موت کی وجہ (کاز آف ڈیتھ) سامنے آجائے گی پریس کانفرنس میں پولیس سرجن ڈاکٹر عائشہ فیض نے بتایا کہ متوفی پروفیسر کے اندرونی و بیرونی پوسٹ مارٹم کی رپورٹ واضح ہیں اور ریکارڈ پر موجود ہیں جو کہ مصدقہ اسٹینڈرڈ کے عین مطابق ہیں جن کا موازنہ دنیا کی کسی بھی جدید میڈیکل لیب سے کرایا جاسکتا ہے پوسٹ مارٹم کے معاملات میں شفافیت کو مقدم رکھا گیا ہے اور کسی سے بھی کوئی ناانصافی نہیں ہوگی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.