
- Advertisement -
ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر محمد اکبر سولنگی نے کہا ہے کہ غذائی کمی کی وجہ سے دنیا بھر میں سالانہ ایک کروڑ بچے موت کا شکار ہو جاتے ہیں جب کہ پاکستان میں پانچ سال سے کم عمر بچوں کی سالانہ اموات کے متعلق آٹھویں نمبر پر ہے ملک مےں پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کی صحت کا معےار قابل قبول سطح سے بھی نےچے ہے جبکہ شےر خوار بچوں کی اموات فی ہزار 2006مےں بالترتےب 78اور 98رےکارڈ کی گئی ان خےالات کااظہار انہوں نے ماں اور بچے کا ہفتہ کے حوالے سے اےک واک سے خطاب کرتے ہوئے کہا اس موقع پر ڈسٹرکٹ کوارڈےنےٹر ای پی آئی ڈاکٹر قادر ہارون،نےشنل پروگرام سپروائزر علی بلےدی، نےوٹرےشن آفےسر اقبال بنگلزئی،ڈوےژنل ہےڈ کوارڈےنےٹر شےراز، ڈاکٹر رخسانہ شرےف،ڈسٹرکٹ ہےلتھ کوارڈےنےٹر شاہدہ حسن ،اےم اےنڈ ای آفےسر شعےب خجک،ڈپٹی کوارڈےنےٹر نےشنل پروگرام رضےہ سموں ، و دےگر بھی موجود تھے ڈسٹرکٹ ہےلتھ آفےسر ڈاکٹر محمد اکبر سولنگی نے کہا کہ پاکستان مےں آدھی سے زےادہ اموات غذائی کمی کے باعث ہوتی ہےں ےہاں صرف سےنتالےس فےصد بچوں کا حفاظتی ٹےکوں کا کورس مکمل کرواےا جاتا ہے انہوں نے کہا کہ پےدائش کے وقت کم وزن غذائی کمی سانس کی بےمارےاں دست اسہال اور خون کی کمی جےسے مسائل مشترکہ طور پر پاکستانی بچوں مےں بےمارےوں و اموات کی شرح بنتی ہےں ڈاکٹر اکبر سولنگی نے کہا کہ بچوں کے پےٹ مےں کےڑوں کی وجہ سے ہونے والی خون کی کمی ان کی بھڑوتی اور مکمل نشوونما بھی رکاوٹ بنتی ہے انہوں نے کہا کہ اےک صحت مند بچے کےلئے اےک صحت مند ماں کا ہونا ضروری ہے بچے کی پہلی خوراک ماں کا دودھ اس کی بہترےن غذا ہے ماں کے دودھ مےں اللہ تعالیٰ نے بےشمار نعتمےں شامل کی ہےں جس کی وجہ سے اےک دن کے بچے سے لےکر پانچ سال تک کے بچے جنہوں نے ماں کا دودھ پےا ہوتا ہے و ہ غےر ضروری بےمارےوں سے محفوظ رہتے ہےں انہوں نے کہا کہ بچوں کو معذور ی اور دست اسہال سے بچاﺅ کےلئے بچوں کو حفاظتی ٹےکے ضرور لگوائےں اور دو سال سے پانچ سال کے بچوں کو پےٹ کے کےٹروں کی ادوےات دی جائےں گی اس سلسلے مےں اےل اےچ وےز شہری اور دےہی علاقوں مےں گھر گھر جاکر خواتےن کو آگاہی فراہم کرےں گی اور بچوں کو حفاظتی ٹےکے اور پےٹ کے کےڑوں کی ادوےات دی جائےں گی انہوں نے کہا کہ مہم کے دوران ماﺅں کو اس بات کی طرف قائل کےا جائے گا کہ وہ بچوں کو دودھ پلاتے وقت صفائی کا خاص خےال رکھےں اور اپنے جسم سمےت کپڑوں کو صاف رکھےں انہوں نے کہا کہ دودھ پلانے والی مائےں اگر صفائی کا خاص خےال رکھےں تو بچوں کی اموات مےں کمی واقع ہوسکتی ہے لےکن ہمارے معاشرے مےں کم علمی اور حفظان صحت کی لاعلمی کے باعث پاکستان مےں بھی شےر خوار بچوں کی اموات مےں اضافہ ہورہا ہے ےہی وجہ ہے کہ حکومت پاکستان ہر سال ماں اور بچے کا ہفتہ کے حوالے سے مہم چلا کر حاملہ خواتےن کو مفت ادوےات اور آگاہی فراہم کی جاتی ہے تاکہ شرح اموات مےں کمی واقع ہوسکے۔