بابائے براهوئی نور محمد پروانه

بابائے براهوئی نور محمد پروانه چیف ایڈیٹر هفت روزه ایلم مستونگ کے صد ساله پیدائش کےموقع پر خصوصی کالم۔۔وائس آف مستونگ
نور محمد پروانہ براہوی ادب کے عظیم مفکر، نقاد اوراعلیٰ پائے کے تخلیق کار بھی تھے۔ (تصاویر بشکریہ بلاگر)
نور محمد پروانہ براہوی ادب کے عظیم مفکر، نقاد اوراعلیٰ پائے کے تخلیق کار بھی تھے۔ (تصاویر بشکریہ بلاگر)
بیتے لمحات بہت یاد آتے ہیں۔ کبھی کبھی بیتے لمحے تاریخ کا حصہ بن کر عظیم داستانیں بھی چھوڑجاتے ہیں، یہ دنیا ان عظیم داستانوں سے بھری پڑی ہے جن کی مثالیں آج تک دی جاتی ہیں۔
اس معاشرے میں کچھ لوگ ایسے بھی پیدا ہوئے ہیں جن کی عظیم داستانوں کے عوض رہتی دنیا تک ان کا نام زندہ رہے گا اور ان کی داستانیں بھی سنہرے حروف سے لکھی جاتی رہیں گی۔ ان عظیم داستانوں میں ایک داستان بابائے براہوی نور محمد پروانہ کی بھی ہے۔
نور محمد پروانہ براہوی 15 فروری 1918 کو اوستہ محمد کے قریبی گاؤں صوبھاواہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد گرامی نے عالم دین ہونے کی وجہ سے انہیں سب سے پہلے دینی تعلیم دلوائی اور قرآن پاک حفظ کروایا۔ بعد ازاں مزید تعلیم کےلیے اوستہ محمد کے آچر پرائمری اسکول میں داخلہ لیا جہاں سے چہارم جماعت پاس کرکے بارنس ہائی اسکول سبی میں داخل ہوگئے۔ پرائمری کے امتحان میں پورے سبی میں دوسری اور نصیرآباد ڈویژن میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔غربت آڑے آنے کی وجہ سے وہ تعلیم کا سلسلہ جاری نہیں رکھ پائے۔ اسی دوران برٹش بلوچستان میں میر عبدالعزیز کرد، عبدالصمد خان اچکزئی اور میر یوسف علی مگسی نے انجمن وطن کی بنیاد رکھی تو نور محمد پروانہ اوستہ محمد برانچ کے صدر منتخب ہوگئے۔

1940 میں قلات اسٹیٹ نیشنل پارٹی اور انجمن وطن کے توسط سے آپ کو سری نگر کے نزدیک ایک علاقے پام پور میں ٹیکنیکل ٹریننگ کےلیے بھیج دیا گیا، اس ٹریننگ نے نورمحمد پروانہ کی صلاحیتوں کو ایک انقلابی رنگ بخش دیا۔
1941-42 میں ان کے رفقاء نے ایک سیاسی پارٹی ’’بلوچستان نیشنل کانگریس‘‘ کی بنیاد رکھی جس میں آپ سیکریٹری نشرواشاعت منتخب ہوئے۔ تنظیمی امور کو مستقل مزاجی سے نبھانے کے ساتھ ساتھ جیکب آباد سے شائع ہونے والے اخبار ’’کمال ہند‘‘ میں کام شروع کر دیا جس کی وجہ سے آپ کے صحافتی تجربے میں بے پناہ اضافہ ہوا۔
قیام پاکستان کے بعد 1951 میں ’’آل پاکستان براہوی ایسوسی ایشن‘‘ کے جنرل سیکریٹری منتخب ہوئے۔ مختلف تنظیموں اور اخبارات سے منسلک رہنے کی وجہ سے سیاسی وصحافتی تجربے نے آپ کے دل میں براہوی قوم اور زبان کی خدمت کا جذبہ جگایا۔
کہتے ہیں کہ ستارے خود تو ڈوب جاتے ہیں مگر دوسروں کو روشن دن کا تحفہ دے جاتے ہیں۔
1958 میں نواب غوث بخش خان رئیسانی سے ملاقات کرکے براہوی زبان کی ترقی وترویج کےلیے ایک اخبار نکالنے کی خواہش ظاہر کی جس پر نواب غوث بخش خان رئیسانی نے انہیں ہر قسم کے تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

قبل ازیں 4 نومبر 1951 کو اپنے ہم خیال رفقاء کے ساتھ مل کر ایک ادبی ادارے کی بنیاد رکھی جو مختلف ادوار میں مختلف ناموں سے گزر کر آج ’’براہوی اکیڈمی‘‘ کے نام سے جانا جاتاv ہے۔ براہوی اکیڈمی اب ایک سایہ دار درخت بن چکا ہے۔ براہوی زبان کے عالم و ادیب اس ادارے سے علمی وادبی تسکین حاصل کررہے ہیں۔ بلوچستان کے بڑے شہروں میں اس کی شاخیں قائم ہیں۔
نور محمد پروانہ براہوی نے 1960 میں پندرہ روزہ ’’ایلم‘‘ کا اجراء کیا۔ ابتداء میں ایلم کی اشاعت میں خاصی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا مگر انہوں نے ان مشکلات کا دلیری سے مقابلہ کرکے براہوی زبان سے محبت کا ثبوت دیا۔ بلاشبہ یہ ایک بہت بڑا ادبی کارنامہ تھا جس کی وجہ سے براہوی قوم/ زبان و ادب کو تہلکہ خیز شہرت حاصل ہوئی۔ اس پذیرائی نے نور محمد پروانہ براہوی کی فکری عمل اور سچی لگن کو مزید جلابخشی۔
نور محمد پروانہ براہوی ادب کے عظیم مفکر، نقاد اوراعلیٰ پائے کے تخلیق کار بھی تھے۔ ان کی تحریروں میں شعور و احساس کی گہرائی، ظرافت کے رنگ اور غور و فکر کا مادہ صاف نظر آتا ہے۔ ان کی شخصیت میں وہ تمام اوصاف موجود تھے جو ایک ادیب کا طرہ امتیاز ہوتے ہیں۔ ان کی پوری زندگی ایک کھلی کتاب کی مانند تھی، شاعری میں بھی اپنی صلاحیتوں کا بھرپور لوہا منوایا۔ ان کی شاعری میں براہوی قوم زبان و ادب سے والہانہ اظہار موجود ہے۔ شاندار کارکردگی، براہوی زبان سے محبت اور مسلسل ادبی خدمات پر براہوی زبان کے تمام عالموں اور ادیبوں نے انہیں ’’بابائے براہوی‘‘ کا خطاب دیا۔
بابائے براہوی نورمحمد پروانہ جیسے ادیب صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں۔ وہ نہایت شفیق، دردمند اور مہربان انسان تھے۔ ہفت روزہ ایلم کے اجراء نے انہیں آج تک زندہٴ جاوید رکھا ہوا ہے۔ ہفت روزہ ایلم اب بابائے براہوی کے نواسے محمد عظیم ذاکربراہوی کی زیرصدارت شائع ہو رہا ہے۔
آخر وہ دن آ پہنچا جو ہر نفس کےلیے مقرر ہے۔ 12 دسمبر 1995 کے روز بابائے براہوی نور محمد پروانہ ہمیں داغ مفارقت دے گئے، یوں ہمشہ کےلیے ایک روشن ستارہ معدوم ہوا؛ مگر آج تک ان کا نام زندہ ہے اور زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Close
Close