- Advertisement -
نیشنل ڈیموکرےٹک پارٹی کے سربراہر
نے کہا ہے کہ جدےد صدی مےں بھی بھاگ کے شہری جوہڑوں سے مضر صحت پانی پینے پر مجبور ہے بھاگ مےں طو ےل ترےن خشک سالی 70سال سے پینے کا صاف پانی کے بحران کی وجہ سے مال موےشی پالنے کے علاوہ لوگ آب پاشی بھی نہےں کرسکتے مقامی افراد کی زمےن بنجر ہوچکی ہےں جبکہ ہزاروں کی تعداد مےں لوگ نقل مکانی کرنے پر مجبور ہےں بھاگ مےں اےک ٹےوٹ وےل نہےں بلکہ ہر ےونےن کونسل کے لےے ٹےوٹ وےل کی ضرورت ہے کچھی کےنال کے دوسرے مرحلہ مےں بھاگ تک پانی لاکر ہمارا دےرینہ مسئلہ حل ہوسکتا ہے چےف جسٹس آف سپرےم کورت آف پاکستان کو بھاگ مےں پانی کا بحران کو نوٹس احسن قدم ہے ان خےالا ت کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز قومی خبر رسان ادارے آئی اےن پی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کےا ۔نےشنل ڈےموکرےٹک پارٹی کے سربراہ سابق سینےٹر ڈاکٹر عبدالئحی بلوچ نے کہا ہے کہ بھاگ مےں قےام پاکستان سے پینے کا پانی ناےاب ہے پانی نہ ہونے کہ وجہ سے آج بھاگ کے ہزاروں افراد نقل مکانی کرنے پر مجبور ہے جبکہ مال موےشی مرجانے کی وجہ سے مقامی افراد کو لاکھوں کا نقصان بھی ہوسابق سبی مےلے کے موقع پر بھاگ کے جانور منڈی کی زےنت بناتے تھے پانی کے نہ ہونے سے زرعی پےداوار متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ مال موےشی پالنا بھی مشکل ہوچکا ہے روزگار کے موقع پہلے ہی ہمارے علاقہ مےں نا ہونے کے برابر ہے جبکہ مال موےشیوں کے پالنے اور زمےن داری کرنے سے روزگار ملتا تھا حالیہ مردم شماری مےں بھاگ کی آبادی بھی کم ہوئی جس سے ہمےں نقصان ہوا انہوں نے کہا کہ چےف جسٹس آف سپرےم کورٹ نے بھاگ مےں پانی کے بحران کو نوٹس لےا جو اےک مثبت قدم ہے پانی زندگی ہے جس کے نہ ہونے سے کئی علاقہ ویرانی کا شکار ہوچکے ہے انہوں نے کہا کہ بھاگ مےں پانی کی کئی پائپ لائن چالو نہ ہونے سے قحط کی صورت حال کا منظر بھی نماےان نظر آتا ہے اےک سوال پر انہوں نے کہا کہ بھاگ کے ہر گاو¿ن دےہات اور ےونےن کونسل مےں ےٹوٹ وےلز کی ضرورت ہے اےک دو ٹےوٹ وےل سے بھاگ مےں 70سالہ پانی کے بحران پر قابو پانا مشکل ہےں تاہم ےہ اےک اچھا قدم ضروری ہے انہوں نے کہا کہ بھاگ کی ترقی اور عوام کی خوشحالی کےلئے اختےارات وسائل کی منصفانہ تقسےم وقت کی ضرورت ہے۔