کرتارپورراہداری کھولنے پر ہمیں اعتراض نہیں لیکن افغانستان بارڈر پر بھی کرتارپورجیسارویہ اپناناچاہےے، آفتاب احمد خان شیر پاﺅ

0

- Advertisement -

قومی وطن پارٹی کے سربراہ وسابق وفاقی وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیر پاﺅ نے پاکستان تحریک انصاف کے حکومت پرتنقید کرتے ہوئے کہاہے کہ کرتارپورراہداری کھولنے پر ہمیں اعتراض نہیں لیکن افغانستان بارڈر پر بھی کرتارپورجیسارویہ اپناناچاہےے ،ملکی نظام صدارتی آرڈیننس سے نہیں چلایا جاسکتا اور نہ ہی پارلیمنٹ کو بائی پاس کرنے سے قومی معاملات طے کئے جاسکتے ہیں ،18ویں ترمیم کیخلاف کسی بھی سازش کا ڈٹ کرمقابلہ کیاجائے گا،عمران خان جب کنٹینر کی سیاست کررہے تھے تو پارلیمنٹ کی تذلیل کررہے تھے اور آج صدارتی آرڈیننس کے ذریعے ایک بار پھر پارلیمنٹ کی تذلیل کرنے کی سازش کررہے ہیں ،یہاں قاتلوں کو پروٹوکول جبکہ اپنے حق کیلئے آواز اٹھانے والوں پر پابندی عائد کی جاتی ہے ،منظور پشتین کی بلوچستان اور سندھ میں داخلے پر پابندی کی مذمت کرتے ہیں ۔ان خیالات کااظہار انہوں نے گزشتہ روز کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر قومی وطن پارٹی کے رہنماءبھی موجود تھے ۔آفتاب احمد خان شیرپاﺅ نے مطالبہ کیاکہ تمام لاپتہ افراد سے متعلق ایک بااختیار کمیشن بنایاجائے مگر یہاں صورتحال یہ ہے کہ معصوم لوگوں کے قاتلوں کو پروٹوکول جبکہ اپنے حق کیلئے آواز بلند کرنے والوں پر پابندی عائد کی جاتی ہے حکومت سندھ وبلوچستان کی جانب سے منظور پشتین کے داخلے پر پابندی کی مذمت کرتے ہیں ۔عام انتخابات کے بعد ان کا یہ بلوچستان کاپہلا دورہ ہے اس وقت ملک بھر کے حالات گھمبیر صورتحال اختیار کرگئے ہیں ،حکومتی 100دن کی کارکردگی عملی کارکردگی کی بجائے اپوزیشن پر تنقید زیادہ کی گئی ہے ،انہوں نے کہاکہ ملک کو صدارتی آرڈیننس کے ذریعے چلانے کی کوشش کرکے پارلیمنٹ کو بائی پاس کیاجارہاہے اس سلسلے میں 18ویں ترمیم کے خلاف کی جانے والی سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرینگے ،انہوں نے کہاکہ عمران خان آج بھی کنٹینر کی سیاست کررہے ہیں ،پارلیمنٹ میں حکومت کم اور اپوزیشن کاکردار زیادہ اداکررہے ہیں ،انوہں نے کہاکہ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اسٹیبلشمنٹ کا پی ٹی آئی کی منشور سے متفق ہے کی باتیں اگر کسی اور سیاسی جماعت کی جانب سے کہی جاتی تو کب کے آئی ایس پی آر کی جانب سے ٹویٹ آجاتی ،انہوں نے کہاکہ الیکشن سے قبل ملک سے باہر لوٹی گئی رقم لانے کی باتیں کرنے والے کچکول اٹھا کر بھیگ مانگ رہے ہیں انہوں نے کہاکہ حکومت کی جانب سے کوئی خارجہ پالیسی نہیں ہے اور نہ ہی سعودی عرب سے لئے گئے قرضے سے متعلق پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیاگیاہے انہوں نے کہاکہ بھارت کے ساتھ کرتارپور راہداری کھولنا خوش آئند ہے یہ رویہ افغانستان کے ساتھ بارڈر پر بھی اپنانی چاہےے ،صحافیوں کی جانب سے پوچھے گئے سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے آفتاب احمد شیرپاﺅ کاکہناتھاکہ احتساب بلاتفریق ہو مگر یہاں الٹ ہورہاہے علیمہ خان کی احتساب سے متعلق اداریں کشمکش میں مبتلا ہیں ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.